فلسطین اسرائیل تنازع

سعودی عرب اور ملائیشیا نے غزہ سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کل اتوار کو سعودی عرب اور ملائیشیا نے فلسطینی علاقوں میں فوجی کشیدگی کو روکنے اور شہریوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

"اسرائیل کے منصوبے بند کرو"

سعودی پریس ایجنسی نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کے درمیان ملاقات کے بعد ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہ نماؤں نے غزہ کی پٹی پر حملے کے منصوبے کو روکنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی خاطر عالمی برادری کے کردار پر زور دیا۔

نقل مکانی کے خلاف انتباہ

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور ملائیشیا نے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے سنگین نتائج سے بھی خبردار کیا ہے۔

دونوں فریقوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کا احترام کرنے کے لیے مجبور کرے اور بین الاقوامی انسانی تنظیموں کو فلسطینی عوام کو انسانی امداد فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔

"شہریوں کو نشانہ بنانےکی مخالفت"

سعودی ولی عہد نے بار بار کشیدگی کی رفتار کو کم کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ تشدد میں توسیع نہ ہو، طبی اور امدادی سامان کو پٹی تک پہنچانے کے لیے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے مملکت کی طرف سے شہریوں کو کسی بھی طرح سے نشانہ بنانے کو مسترد کرتے ہوئے بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کی اہمیت اور شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کے خلاف فوجی کارروائیوں کو روکنے پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں