غزہ کے شہریوں کو دانستہ نشانہ بنانے پر اسرائیل کو کٹہرے میں لایا جائے:عمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سلطنت عمان نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں سولین کی ہلاکتوں کی شدید مذمت کی ہے۔

غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ کے 25 ویں دن عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے غزہ میں "شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے" کے لیے اسرائیل سے آزادانہ تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے منگل کے روز عمانی نیوز ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ''اسرائیل نے جان بوجھ کر فلسطینیوں کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، انھیں ان کی انسانی ضروریات سے محروم رکھا، انھیں بھوکا رکھا اور انھیں محاصرے اور اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا''۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اپنا دفاع نسل کشی یا اجتماعی سزا اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کا جواز نہیں بن سکتا"۔ انہوں نے کہا کہ "انسانی امداد کو آبادی تک پہنچنے سے روکنا بین الاقوامی قانون کے تحت جرم ہے"۔

حماس سمیت تمام فریقین کی امن عمل میں شمولیت پر زور

البوسعیدی نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا جس میں حماس سمیت تمام فریقین کو شامل کرنے پر زور دیا گیا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کی حکمرانی پر مبنی سیاسی حل کے لیے پرعزم ہے اور بین الاقوامی برادری کو غزہ پر جنگ روکنے اور اسرائیل کو روکنے کے لیے مداخلت کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا "اسرائیل کی موجودہ فوجی کارروائی اپنے دفاع کا ایک ضروری اقدام نہیں ہے کیونکہ تمام ممالک شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت اور مخالفت مذمت کرتے ہیں، چاہے ان کی قومیت کچھ بھی ہو"،

زمینی کارروائیوں میں توسیع

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیل نے غزہ میں اپنی زمینی کارروائیوں کو بڑھایا تھا تاکہ حماس کو 7 اکتوبر کو کیے گئے حملے کی سزا دی جائے، جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دریں اثنا غزہ میں صحت کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں 8,306 فلسطینی شہید ہوچکے جن میں 3,457 نابالغ بچے بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں