غزہ ۔۔ پانی کی شدید کمی، لاکھوں فلسطینی بچوں کی' ڈی ہائیڈریشن ' سے موت کا خدشہ

اب بمباری سے بھی زیادہ اموات پانی کی کمی کی وجہ سے ہو سکتی ہیں۔ یونیسیف ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غزہ کی پٹی پر مسلسل بمباری، تباہی اور ہلاکتوں کی وجہ عملاً ہزاروں فلسطینی عرب بچوں کا قبرستان بن چکا ہے۔ خدشہ ہے کہ بچوں کی مزید اموات میں ایک اور بڑا سبب بچوں کے جسموں میں پانی کی ہو چکی کمی بن سکتی ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے پچھلے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق 8525 شہید ہونے والے فلسطینی شہریوں میں سے 3500 فلسطینی بچے شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق ( اتنے دنوں کی بمباری سے ہونے والی حد سے زیادہ تباہی کی وجہ سے ) 'اب خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ بڑی تعداد میں بچوں کی غزہ میں اموات پانی کی کمی کے عارضے کی وجہ سے ہو سکتی ہیں۔ '

ہمارا سنگین ترین خوف اس سے ہے کہ براہ راست بمباری کی وجہ سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد پانی کے کمی سے ہونے والی ہلاکتوں کے باعث پس منظر میں جا سکتی ہے۔ '

واضح رہے کہ غزہ میں ہر طرح کے 'سول انفراسٹرکچر' کی بمباری سے 'ٹارگٹڈ ' تباہی کے سبب پانی کی فراہمی کا نظام بھی تقریباً ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ اب یہ غزہ کی ضرورتوں کے مقابلے میں محض پانچ فیصد باقی بچا ہے'

یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کا کہنا ہے کہ 'بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد جو پہلے چھوٹے اعداد میں تھی، پھر درجنوں میں ہوئی ، بعد ازاں بیسیوں کی تعداد میں تبدیل ہوتی ہوئی سینکڑوں میں اور اب یہ ہلاکتیں ہزاروں کو پہنچ چکی ہے۔'

'اب تک بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار کو چھو چکی ہے۔ جبکہ ہر آنے والے روز اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ غزہ بچوں کا قبرستان بن چکا ہے، غزہ اپنے ہر رہنے والے کے لیے ایک جہنم زار بن گیا ہے۔'

فلسطین کے اقوام متحدہ میں سفیر نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں غزہ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے مسلسل بمباری کے نتیجے میں اسے زمین کا جہنم قرار دیا اور بتایا کہ ہر پانچ منٹ بعد ایک فلسطینی بچہ شہید ہو رہا ہے۔

جیمز ایلڈر نے مزید کہا 'بلا شبہ غزہ میں بچے مر رہے ہیں، ان کی جانیں بچانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ وہ ایک ویڈیو لنک کے ذریعے جنیوا میں رپورٹرز سے بات کر رہے تھے۔

دوسری جانب اسرائیل تو رہا ایک طرف امریکہ ، برطانیہ اور فرانس ایسے ملک بھی غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں کے اس درجے کو پہنچنے اور تباہی کی کوئی حد نہ رہنے کے باوجود جنگ بندی کی شدید ترین مخالف کے طور پر سامنے ہیں۔

جبکہ اسرائیل نے بمباری میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور زمینی حملوں کی بھی کوشش میں یونیسیف فوری جنگ بندی کی اپیل کر رہا ہے۔تاکہ غزہ میں امدادی کارروائیوں کے ذریعے کچھ جانیں بچائی جا سکیں۔

یونیسیف کے مطابق غزہ میں انسانی بنیادوں پر وسیع امدادی کارروائیوں کے لیے رسائی کے بغیر غزہ میں انسانی زندگیوں کو بچانے کا کام محض نہ ہونے کے برابر رہے۔'( یعنی محض ایک دھوکہ )

جیمز ایلڈر نے بتایا ۔ اب تک دس لاکھ سے زائد بچے پینے کے صاف پانی سے محروم ہو چکے ہیں۔ غزہ میں مجموعی طور پر بھی اس کی ضرورتوں کے مقابلے میں صرف پانچ فیصد پانی دستیاب ہے۔ جس کی وجہ سے کم سن اوربہت چھوٹی عمر کے بچے حتیٰ کہ شیر خوار بھی پانی کی کمی کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ جس سے ان کی اموات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔'

جیمز ایلڈر نے مزید کہا ' اگر غزہ میں جنگ بندی نہ کی گئی تو غزہ میں پانی نہیں ہو گا، دوائی نہیں ہو گی، اور نہ ہی غزہ میں پھنسے بچوں کو نکالا جا سکے گا۔'

واضح رہے جنیوا میں اسرائیلی سفیر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ غزہ میں 33 بچے اغوا کر کے بھی لائے گئے ہیں۔ ان میں نوماہ کی بچی بھی شامل ہے جو اپنی ماں کے ساتھ لائی گئی ہے۔ تاہم اسرائیلی سفیر نے غزہ میں ہزاروں بچوں کی اب تک ہو چکی ہلاکتوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

جیمز ایلڈر کے مطابق 'اس غزہ میں 130 بچے ایسے ہیں جن کی پیدائش قبل از وقت ہوئی ہے۔ ان کے لیے انکیو بٹرز کی ضرورت ہے۔ ان 130 میں سے 61 شمالی غزہ میں ہیں۔ 'یہ سب بھیی تباہ شدہ غزہ موت کے نشانے پر ہیں۔ ہےلیکن اس کے باوجود غزہ کو بہت کم امدادی سامان پہنچ رہا ہے ۔ یہ سب ناقابل برداشت ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں