غزہ میں والدین ہونا اذیت کے سوا کچھ نہیں: 25 دنوں میں 3600 سے زائد بچے شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر اپنی جنگ کے ابتدائی 25 دنوں میں 3,600 سے زائد فلسطینی بچوں کو قتل کیا ہے۔

وہ فضائی حملوں کی زد میں آئے، غلط فائر کیے گئے راکٹوں سے تباہ ہوئے، دھماکوں میں جل گئے اور عمارتوں کے ملبے تلے کچلے گئے۔ اور ان میں نوزائیدہ اور چھوٹے بچے، شوقین قارئین، خواہش مند صحافی اور وہ لڑکے شامل تھے جو سمجھتے تھے کہ وہ چرچ میں محفوظ رہیں گے۔

پرہجوم پٹی کے 2.3 ملین باشندوں میں سے تقریباً نصف کی عمر 18 سال سے کم ہے اور جنگ میں اب تک کے ہلاک شدگان میں 40 فیصد بچے ہیں۔

26 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں ایک فلسطینی شخص اسرائیلی حملوں کے مقام پر ایک زخمی بچی کو اٹھائے ہوئے ہے۔ (رائٹرز)
26 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں ایک فلسطینی شخص اسرائیلی حملوں کے مقام پر ایک زخمی بچی کو اٹھائے ہوئے ہے۔ (رائٹرز)

گذشتہ ہفتے جاری کردہ غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے ایسوسی ایٹڈ پریس کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ 26 اکتوبر تک 12 سال اور اس سے کم عمر کے 2,001 بچے ہلاک ہوئے جن میں 615 ایسے بھی شامل ہیں جو 3 سال یا اس سے کم عمر کے تھے۔

مصنف آدم المدون نے وسطی غزہ کے شہر دیر البلاح کے الاقصی شہداء اسپتال میں بدھ کے روز جب اپنی 4 سالہ بیٹی کنزی کو تسلی دی تو کہا۔ "جب گھر تباہ ہوتے ہیں تو وہ بچوں کے سروں پر گر جاتے ہیں۔" وہ ایک فضائی حملے میں بچ گئی جس میں اس کا دایاں بازو ضائع ہو گیا، بائیں ٹانگ کچل گئی اور کھوپڑی ٹوٹ گئی۔

11 اکتوبر 2023 کو غزہ شہر کی ایک گلی میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد فلسطینی خواتین اپنے بچوں کے ساتھ گھروں سے بھاگ رہی ہیں۔ (اے ایف پی)
11 اکتوبر 2023 کو غزہ شہر کی ایک گلی میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد فلسطینی خواتین اپنے بچوں کے ساتھ گھروں سے بھاگ رہی ہیں۔ (اے ایف پی)

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کے فضائی حملوں میں حماس کے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور وہ گروپ پر شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ عسکریت پسندوں کے 500 سے زیادہ راکٹ غلط طور پر چل جانے کی وجہ سے غزہ میں گرے ہیں جس سے نامعلوم تعداد میں فلسطینی ہلاکتیں ہوئیں۔

عالمی خیراتی ادارے سیو دی چلڈرن کے مطابق غزہ میں صرف تین ہفتوں کے دوران دنیا کے تمام تنازعات میں ہلاک شدہ بچوں کی تعداد سے زیادہ بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔ مثلاً اس میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال کے دوران دو درجن جنگ زدہ علاقوں میں 2,985 بچے ہلاک ہوئے۔

بچوں کے لیے 'قبرستان'

اقوامِ متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا کہ غزہ ہزاروں بچوں کا قبرستان بن چکا ہے۔

جنگ کے خوف اور صدمے سے بدحال غزہ کے ملبے سے نکالے جانے والے یا ہسپتال کی پہیوں والی گندی گاڑیوں پر درد سے تڑپتے والے بچوں کی تصاویر اور فوٹیج اب ایک عام سی بات بن گئی ہے اور اس نے دنیا بھر میں احتجاج کو ہوا دی ہے۔

حالیہ فضائی حملوں کے مناظر میں خون آلود سفید توتو میں ملبوس ایک لنگڑے بچے کو اٹھائے ہوئے ایک ریسکیور، مردہ بچے کو اپنے سینے سے مضبوطی سے جکڑے ہوئے چیختے ہوئے ایک باپ اور خون اور گردوغبار میں اٹے ہوئے کھنڈرات میں لڑکھڑاتے ہوئے ایک بدحواس لڑکے کی تصاویر اور وڈیوز شامل ہیں۔

غزہ شہر سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ نجار (بڑھئی) احمد مودویخ جن کی زندگی مئی میں پانچ روزہ لڑائی کے دوران ان کی 8 سالہ بیٹی کی موت سے تباہ ہو گئی، نے کہا۔ "غزہ میں والدین ہونا ایک نحوست ہے۔"

اسرائیلی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری کی وجہ سے فلسطینی بچے اپارٹمنٹس یا اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام پناہ گاہوں میں بڑے خاندانوں کے ساتھ ٹھنسے ہوئے ہیں (کیونکہ وہاں جگہ کم اور پناہ گزین بہت زیادہ ہیں)۔ اگرچہ اسرائیل نے فلسطینیوں پر زور دیا ہے کہ وہ شمالی غزہ کی پٹی چھوڑ کر جنوب کی طرف نکل جائیں لیکن اس علاقے میں کوئی بھی جگہ اس کے فضائی حملوں سے محفوظ نہیں ہے۔

یاسمین جودہ نے کہا، "لوگ موت سے بچنے کے لیے بھاگ رہے ہیں لیکن سب جگہ موت ہے۔" 22 اکتوبر کو دیر البلاح میں دو چار منزلہ عمارات پر تباہ کن فضائی حملوں میں یاسمین جودہ خاندان کے 68 افراد سے محروم ہو گئیں جہاں انہوں نے شمالی غزہ سے پناہ لی تھی۔

جودہ کی ایک سالہ بھانجی ملیسا اس حملے میں زندہ بچ جانے والا واحد فرد تھی جس کی ماں عین حملے کے دوران زچگی میں چلی گئی اور ملبے تلے مردہ پائی گئی تھی۔ اس کے بے جان جڑواں نومولود بچوں کے سر اس کی پیدائشی نس سے باہر نکل رہے تھے۔

جودہ نے کہا۔ "اس ننھے بچے کا کیا قصور ہے جو اسے خاندان کے بغیر زندگی گذارنے کو ملی؟"

غزہ کی ہلاکتیں – جو غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب 8,800 سے زیادہ ہیں – اسرائیل نے حماس کو ان کا ذمہ دار قرار دیا کیونکہ عسکریت پسند گروپ پرہجوم رہائشی محلوں سے اپنا کام کرتا ہے۔

اسرائیلی حملے بلا امتیاز اور غیر متناسب ہیں، اس بات کے ثبوت کے طور پر فلسطینی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

زندگی بدل دینے والے داغ

ڈاکٹر کہتے ہیں کہ جنگ میں 7000 سے زیادہ فلسطینی بچے زخمی ہوئے ہیں اور ان پریشانیوں نے کئی لوگوں کی زندگی بدل کی رکھ دی ہے۔

جنگ سے ذرا پہلے جودا کی بھانجی ملیسا پہلی بار چند قدم چلی۔ وہ پھر کبھی نہیں چل سکے گی۔

ڈاکٹر کہتے ہیں کہ جس فضائی حملے میں بچی کے اہل خانہ ہلاک ہو گئے، اس میں اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ سینے سے نیچے تک مفلوج ہو گئی۔ غزہ کے مرکزی ہسپتال میں وہ جس ہال میں ہے، وہاں سے بالکل نیچے 4 سالہ کینزی چیختے ہوئے اٹھی اور پوچھنے لگی کہ اس کے غائب شدہ دائیں بازو کو کیا ہوا تھا۔

11 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں ایک فلسطینی لڑکا ایمبولینس میں بیٹھا ہے جو ایک گھر پر اسرائیلی حملوں میں زخمی ہوا تھا۔ (رائٹرز)
11 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں ایک فلسطینی لڑکا ایمبولینس میں بیٹھا ہے جو ایک گھر پر اسرائیلی حملوں میں زخمی ہوا تھا۔ (رائٹرز)

اس کے والد نے کہا، "اس کے لیے بھی بہت زیادہ خیال اور کام کرنا پڑے گا کہ یہ (مکمل تو کیا) نصف نارمل زندگی ہی گذارنے کے لائق ہو جائے۔"

حتیٰ کہ جسمانی ضرر سے محفوظ رہ جانے والے بھی جنگ کی تباہ کاریوں کے اذیت ناک نقوش سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔

غزہ کے بچوں کے لئے امید کا کوئی در نہیں کھلا

2007 میں عسکریت پسند گروپ کی جانب سے انکلیو پر قبضہ کرنے کے بعد سے غزہ میں 15 سال کے بچے اسرائیل اور حماس کی پانچویں جنگ دیکھ رہے ہیں۔

وہ بس اتنا جانتے ہیں کہ ایک سزا دینے والی اسرائیلی-مصری ناکہ بندی کے تحت زندگی گذارنی ہے جو انہیں بیرونِ ملک سفر کرنے سے روکتی ہے اور ان کی مستقبل کی امیدوں کو کچل دیتی ہے۔

عالمی بینک کے مطابق اس پٹی میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح 70 فیصد ہے۔

فلسطینی علاقوں میں ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل کے احتساب پروگرام کے ڈائریکٹر عائد ابو اقتیش نے کہا، "ان بچوں کے لیے کیریئر بنانے، اپنے معیار زندگی کو بہتر کرنے، صحت کی بہتر نگہداشت اور تعلیم تک رسائی کی کوئی امید نہیں ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "لیکن اس جنگ میں یہ زندگی اور موت کے بارے میں ہے۔"

اور غزہ میں ہر طرف موت ہے۔

اے ایف پی ٹی وی ویڈیو فوٹیج سے لی گئی اس تصویر میں فلسطینی 1 نومبر 2023 کو غزہ کی پٹی میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
اے ایف پی ٹی وی ویڈیو فوٹیج سے لی گئی اس تصویر میں فلسطینی 1 نومبر 2023 کو غزہ کی پٹی میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں