حزب اللہ کے پاس روسی ساختہ ' یاخونت ' میزائل بھی موجود؟

علاقے میں امریکی بحری بیڑوں کو نشانہ بنانے کی تیاری موجود ہے۔ حز ب اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی حمایت یافتہ لبنانی مسلح ملیشیا حزب اللہ نے روسی ساختہ طاقتور میزائل اپنے جدید اسلحے کے ذخیرے میں شامل کر لیے ہیں۔ حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے پچھلے ہفتے کہا تھا خطے میں امریکی بحری بیڑے علاقے میں پھیل جانے والی جنگ کے لیے اہم اشارہ ہیں۔

حزب اللہ کے لیڈر نے پچھلے ہفتے امریکہ کو انتباہ بھی کیا تھا کہ اس نے علاقے میں بھیجے گئے بحری بیڑوں کے خلاف کچھ حاصل کر لیا ہے۔

حزب اللہ کے اسلحے کو جاننے والے دو ذرائع نے کہا ہے کہ حزب اللہ نے بحری جنگی جہازوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھا لیا ہے۔ اس صلاحیت کو بڑھانے کے لیے روسی ساختہ 'یاخونت' میزائل بھی شامل کیے گئے ہیں، جو 300 کلو میٹر تک مار کر سکتے ہیں۔

میڈیا میں آنے والی خبروں اور تجزیوں میں کئی سال سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ حزب اللہ نے روس کا تیار کردہ میزائل ' یاخونت' حاصل کر لیا ہے۔ یہ ایک دہائی پہلے شام میں استعمال کے لایا گیا تھا تاکہ بشار الاسد کے خلاف جاری خانہ جنگی میں اس کی مدد کی جا سکے۔

تاہم حزب اللہ نے ' یاخونت ' کی اپنے پاس موجودگی کی کبھی باقاعدہ تصدیق نہیں کی ہے۔ اس سلسلے میں اب ایک بار پھر حزب اللہ کے میڈیا آفس سے دریافت کیا گیا مگر اس کا جواب نہیں دیا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے دو بڑے بحری بیڑے اور ان کی معاونت کے لیے دیگر جہاز اسرائیل حماس جنگ کو پھیلنے سے روکنے اور اس میں ایران کے کودنے کو روکنے کے لیے بحیرہ روم میں بھیجے گئے ہیں۔

واضح رہے ایران فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس، حزب اللہ اور اسلامی جہاد کی حمایت کرتا ہے۔ حزب اللہ اس سے پہلے ہی یہ کہہ چکا ہے کہ وہ امریکی بحری بیڑوں کو ایک خطرے کے طور پر دیکھتا کیونکہ یہ بحری بیڑے حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی حزب اللہ کے سربراہ نے پچھلے جمعہ کے روز اپنی تقریر میں یہ بھی کہہ دیا تھا ' یہ بحری بیڑے ہمیں نہیں ڈراتے ، نہ ہی ہم ان سے ڈریں گے۔ ہم نے ان کے لیے تیاری بھی کر رکھی ہے۔' اس کے جواب میں امریکہ کی طرف سے کہا گیا تھا ' حزب اللہ اسرائیل حماس جنگ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔'

ایک اور ذریعے کا کہنا ہے کہ 'حزب اللہ نے 2006 سے ہی اپنی ' اینٹی شپ ' صلاحیت کو بڑھا لیا تھا۔ اس کی اسرائیل کےساتھ ہونےوالی جنگ 2006 میں سمندر میں اسرائیلی جہاز نشانہ بھی بنائے گئے تھے۔ اس ذریعے کے مطابق 'یاخونت' کے ساتھ ساتھ اور اسلحہ بھی حزب اللہ کے پاس موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں