غزہ جنگ جاری رہی تو پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے:سعودی عرب

غزہ میں مسلسل جنگ کسی نئے انسانی المیے کا باعث بنے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید الخیرجی نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں فلسطین افسوسناک واقعات اور نہتے شہریوں کے خلاف وحشیانہ خلاف ورزیوں کا مشاہدہ کر رہا ہے۔

انہوں نے مناما ڈائیلاگ فورم 2023ء سے خطاب میں مزید کہا کہ "ہم نے بارہا شہریوں کو کسی بھی شکل میں اور کسی بھی بہانے سے نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔ غزہ جنگ کا جاری رہنا اور طول پکڑنا بلاجواز انسانی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ جنگ خطے میں وسیع پیمانے پر کشیدگی کا باعث سکتی ہے جس سے علاقائی سلامتی داؤ پر لگ سکتی ہے۔

الخریجی نے مزید کہا کہ مملکت غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی اور منصفانہ اور جامع امن کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب فوری جنگ بندی اور غزہ پر مسلط کردہ محاصرہ ختم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

اسرائیلی جنگ ننگی جارحیت

درایں اثنا اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفدی نے ہفتے کے روز کہا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جنگ اسرائیل کی صریح جارحیت ہے جسے اسرائیل کو دفاع کے حق کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

الصفدی نے 2023ء کے منامہ ڈائیلاگ سے خطاب میں کہا کہ "میں سمجھ نہیں پا رہا کہ اسرائیل حماس کو تباہ کرنے کے اپنے مقصد کو کیسے حاصل کر سکتا ہے۔ اسرائیل کی یہ جنگ نہتے فلسطینیوں کے خلاٖف ہے‘‘۔

الصفدی نے کہا کہ مملکت فلسطینیوں کی بے دخلی کی کسی صورت اجازت نہیں دے گی۔ اگرایسا کیا گیا تو یہ جنگی جرم ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں