برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون کی اسرائیل کے دورے کے دوران جنگ بندی کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے اسرائیل کے دورے کے موقع پر جنگ بندی کی حمایت کی ہے۔ ڈیوڈ کیمرون نے چند روز قبل بطور وزیر خارجہ برطانیہ ذمہ داری سنبھالی ہے۔ اس ذمہ داری کے ساتھ ان کا اسرائیل کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس سے پہلے وہ برطانیہ کے وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں۔

انہوں نے اس موقع پر جنوبی اسرائیل کے ان علاقوں کا دورہ کیا جہاں کی یہودی کمیونٹی حماس کے حملوں کی زد میں رہی۔

جنوبی اسرائیل کے دورے کے دوران وزیر خارجہ برطانیہ نے 'فلیک جیکٹ' پہن رکھی تھی۔ واضح رہے ایسی ہی فلیک جیکٹ آج کل اسرائیلی فوج کی بمباری سے بچنے کے لیے صحافی پہن رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اسرائیلی ٹینک اور جہاز انہیں تاک تاک کر نشانے پر لے رہے ہیں۔ اب تک 50 صحافی ہلاک ہو چکے ہیں۔

کیمرون اس علاقے میں ملبے والے حصے سے بطور خاص گذرکر آگے گئے ، یہ ملبہ پچھلے ماہ ہونے والے حماس کے راکٹ حملے سے جلنے والے مکان کا تھا ۔ لیکن ایک ماہ گزرنے کے باوجود اسے اٹھایا نہیں گیا تھا۔

ڈیوڈ کیمرون نے كيبوتس بئيري کے اس علاقے کا معائنہ کیا جسے حماس کے حملوں سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا تھا۔ ان کے ساتھ اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن بھی موجود تھے ۔ ڈیوڈ کمیرون نے اپنے اسرائیلی ہم منصب سے بات کرتے ہوئےکہا ' ہم امید رکھتے ہیں کہ انسانی بنیادوں پر جنگ میں وقفہ دیکھ سکیں گے۔'

ڈیوڈ کمیرون نے مزید کہا ' میرے خیال میں جنگی وقفہ بہت ضروری ہے کہ اس دوران ہم اپنے یرغمالیوں کو باہر لا سکیں گے اور امدادی سامان غزہ میں پہنچا سکیں گے۔ '

انہوں نے کہا ' میں امید بھی کرتا ہوں اور ہر ایک سے کہنا بھی چاہتا ہوں کہ معاہدے میں جو کوئی بھی شامل ہے وہ اس پر عمل درآمدکو یقینی بنائے۔کیونکہ یہ بہت اہم ہے۔'

برطانوی وزیر خارجہ نے ایلی کوہن کے ساتھ اسرائیلی شہر سديروت میں ملاقات کی ، اس شہر کے بارے میں انہیں بتایا گیا کہ حماس نے اس شہر پر بھی حملہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں