درعیہ کی نشوونما کے ساتھ منصوبے کے حکام سعودی ورثے کو برقرار رکھنے کے لیے ثابت قدم

سی ای او جیری انزیریلو کہتے ہیں کہ دسمبر میں افتتاح کے بعد سے دس لاکھ افراد اس کا دورہ کر چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کے ایک حصے کے مطابق سعودی عرب عروج پر جا رہا ہے، ترقی اور نمو پا رہا ہے۔ ایک خاص منصوبہ جس پر مملکت 63 بلین ڈالر خرچ کر رہی ہے، حال ہی میں 70 کرینیں اور تقریباً 27,000 کارکنان اس کی سائٹ پر موجود تھے۔

یہ منصوبہ درعیہ ہے جو اولین سعودی ریاست کی جائے پیدائش اور شاہ سلمان اور ال سعود خاندان کا آبائی گھر ہے۔

العربیہ کو درعیہ کے مستقبل کے منصوبوں کی ایک خصوصی پریزنٹیشن موصول ہوئی جو ایک ایسا شہر ہے جو منٹوں میں شروع سے آخر تک چلنے کے قابل ہو جائے گا۔

درعیہ کمپنی کے گروپ سی ای او جیری انزیریلو کے مطابق البتہ یہ صرف ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں ہے۔

اپنے دفتر سے 10 مربع کلومیٹر سے زیادہ کے مخلوط الاستعمال مقام کی طرف دیکھتے ہوئے انزریلو نے العربیہ کو بتایا، "مملکت میں کئی منصوبے جاری ہیں لیکن یہ والا ایک مملکت کی جائے پیدائش ہے۔ یہ دراصل سعودی شناخت کا ذریعہ ہے۔''

پررونق ریستورانوں سے بھرا بجیری ٹیرس (مطل البجیری) پہلے ہی کھل چکا ہے۔ اکتوبر کے آخری ہفتے میں ایک اندازے کے مطابق 5,000 زائرین یہاں آئے۔

زائرین درعیہ کے بجیری ٹیرس کے ارد گرد گھوم پھر رہے ہیں۔ (فراہم کردہ)
زائرین درعیہ کے بجیری ٹیرس کے ارد گرد گھوم پھر رہے ہیں۔ (فراہم کردہ)

ٹیرس کے ساتھ ہی سعودی عرب کے اہم ترین ثقافتی مقامات میں سے ایک الطریف واقع ہے جسے حال ہی میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

یہ خاص قلعہ ال سعود خاندان کے لیے اقتدار کی ابتدائی نشست اور مملکت کی جائے پیدائش تھی۔

انزیریلو نے کہا۔ "اگر آپ اپنے معاشرے کو اپنی جڑوں پر فخر محسوس کروانے جا رہے ہیں اور یہ فخر کی شناخت کا ذریعہ ہے تو یہ درعیہ ہے۔"

اس وقت درعیہ گیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں 2,000 براہِ راست ملازمین کام کر رہے ہیں۔ یہ تعداد 2030 تک بڑھ کر 55,000 تک پہنچنے کی امید ہے۔

یہ ملازمین درعیہ کو دنیا کے سب سے بڑے ثقافتی اور تہذیبی ورثے کا مقام بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

درعیہ کا ایک عمومی منظر، 28 اکتوبر 2023۔ (جوزف حبوش/العربیہ)
درعیہ کا ایک عمومی منظر، 28 اکتوبر 2023۔ (جوزف حبوش/العربیہ)

ورثے کا تحفظ

مقامات کے ورثے کو محفوظ رکھنا درعیہ کو ترقی دینے کے منشور کا حصہ ہے۔

اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش میں ثقافتی ورثے کی ایک کمیٹی قائم ہے جو ان مقامات میں کسی ممکنہ تبدیلی کو دیکھتی ہے۔ انزریلو نے کہا، "ہمیں کمیٹی کی تحریری اجازت کے بغیر [کسی بھی علاقے کو] چھونے کی اجازت نہیں۔" اور مزید کہا کہ 180 ملین مٹی کی اینٹیں نامیاتی طور پر بننے کے عمل میں تھیں۔

درعیہ کی تمام عمارات اسی مٹیریل سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا۔ "آپ نہیں چاہتے کہ یہ لاس ویگاس یا ڈزنی کی طرح نظر آئے۔"

درعیہ اور جزیرہ نما عرب کا ایک مخصوص طرزِ تعمیر نجدی طرز نو تعمیر شدہ ریستورانوں اور مقامات میں واضح جھلکتا ہے۔

انزیریلو نے کہا، "ہمارا ہر فیصلہ دو چیزوں پر مبنی ہوتا ہے: کیا یہ مستند ہے، اور کیا اس کا تعلق 300 سالہ جدید سعودی ثقافتی ورثے سے ہے؟"

منصوبے کی جگہ پر 60 لاکھ سے زائد درخت، پودے اور جھاڑیاں لگائی گئی ہیں۔ باغبانی کے ان عناصر کا بغور مطالعہ اور انتخاب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ وہ اس مقامی سبزے کا حصہ ہوں جو عموماً اس علاقے میں موجود ہے۔

درعیہ کو بالکل نئے انفراسٹرکچر کے ساتھ ایک "سمارٹ سٹی" بنانے کے لیے تقریباً 8 ملین مکعب میٹر چٹان کو زیرِ زمین کھود دیا گیا۔ میٹرو اسٹیشن پورے شہر میں بنائے جائیں گے اور رہائشی اور غیر رہائشی عمارات پارکس، بائیک ٹریلز، ریستورانوں اور ہوٹلوں سے متصل ہوں گی۔

مکمل طور پر چلنے کے قابل شہر کے 2030 تک مکمل ہو جانے کی امید ہے۔ تین مراحل کو ترقی دی گئی اور ان کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جبکہ چوتھے کی تشہیر ابھی باقی ہے۔

درعیہ اور جزیرہ نما عرب کا ایک مخصوص طرزِ تعمیر نجدی طرز نو تعمیر شدہ ریستورانوں اور مقامات میں واضح جھلکتا ہے
درعیہ اور جزیرہ نما عرب کا ایک مخصوص طرزِ تعمیر نجدی طرز نو تعمیر شدہ ریستورانوں اور مقامات میں واضح جھلکتا ہے

العربیہ کے ملاحظہ کردہ سہ جہتی (3 ڈی) ماڈلز اس کی پیچیدگی اور تفصیلات کو ظاہر کرتے ہیں کہ درعیہ کیسا ہو گا۔

انزیریلو نے دنیا بھر کے سیاحوں کو دعوتِ عام دیتے ہوئے کہا، "آئیے اور مملکت کی جائے پیدائش دیکھیے جہاں عرب کی ابتدا ہوئی اور گرمجوش اور مہمان نواز لوگ آپ کا استقبال کریں گے جو کسی بھی سعودی کا فطری خاصہ ہے۔" انہوں نے مزید کہا، "یہ اس پرانے پریشان کن اور دقیانوسی تصور کو ختم کر دے گا کہ سعودیہ میں صحراؤں اور اونٹوں کے سوا کچھ نہیں۔"

"آیئے ایک ایسا ملک دیکھیے جس کی تاریخ اور ثقافت بہت بھرپور ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں