غزہ میں قید صہیونی فوجی اسرائیل کے لیے مخمصہ بن گئے

یرغمالیوں میں 4 خواتین سمیت کم از کم 11 فوجی ، ریزرو فورسز والی عمر کے 40 مرد بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر حراست اسرائیلی فوجیوں کا معاملہ اسرائیل کے لیے ایک کانٹے دار اور حساس مسئلہ بن گیا ہے۔ اس صورت حال نے اسرائیل کو ایک مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ اسرائیل میں تقریبا ہر خاندان کا ایک فرد فوج میں خدمات انجام دے رہا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حماس کے جنگجوؤں نے 7 اکتوبر کو اپنے حملے کے دوران 240 قیدیوں کو حراست میں لیا تھا جن میں فوجی بھی شامل تھے۔

اب تک 72 قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے میں تین گنا زیادہ فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔ لیکن فوجیوں نے قیدیوں کے تبادلے کے لیے جاری مذاکرات میں ایک خاص مشکل پیش کی۔

پیرس میں جین جورس فاؤنڈیشن کے شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ آبزرویٹری کے شریک ڈائریکٹر ڈیوڈ خلفا نے کہا ہے کہ اسرائیل میں ہر خاندان کا ایک بھائی، بہن اور کزن فوجی سروسز انجام دے رہا ہے۔ اسرائیل جنگ کے ہنگاموں کے درمیان ابھرا تھا۔ فوج نے اس صہیونی ریاست کے قیام اور اس کی حفاظت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ اسرائیلی سول سوسائٹی، ریاست اور فوج کے درمیان ایک اٹوٹ رابطہ اور بڑی جذباتی قربت پائی جاتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق حماس کے زیر حراست یرغمالیوں میں چار خواتین سمیت 11 فوجی شامل ہیں۔ ریزرو فورسز میں شامل ہونے کی عمر کے بھی تقریباً 40 مرد یرغمال ہیں۔

اسرائیل کے لیے قیدی فوجیوں کا تبادلہ کوئی نئی بات نہیں۔ 2004 میں اسرائیل نے ایک اسرائیلی تاجر اور تین فوجیوں کی لاشوں کے بدلے تقریباً 450 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔

2011 میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو 1027 فلسطینی قیدیوں کے بدلے غزہ کی پٹی میں پانچ سال قید رہنے کے بعد رہا کرایا گیا تھا۔ شالیت معاہدے کے تحت رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں میں حماس رہنما یحییٰ سنوار بھی شامل تھے۔ یہ وہی سنوار ہیں جنہیں اب سات اکتوبر 2023 کے حیران کن حملے کا معمار سمجھا جارہا ہے۔

گیلاد شالیت تقریباً تین دہائیوں میں زندہ واپس آنے والا پہلا اسرائیلی فوجی تھا۔ لیکن اس کے معاملے نے ایک تنازع کو جنم دیا تھا۔ فوجیوں کی رہائی کے لیے قابل قبول مراعات کے بارے میں بحث آج تک جاری ہے۔ تاہم حماس کے سات اکتوبر کے حملے نے اسرائیلی حکام، فوج اور انٹیلی جنس کی ناکامی کو ظاہر کرکے رکھ دیا ہے۔

2011 میں رہا ہونے والے اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کی تصویر
2011 میں رہا ہونے والے اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کی تصویر

حماس نے اسرائیلی جیلوں میں قید تمام فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں اسرائیلی فوجیوں کی رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں لگ بھگ 7 ہزار فلسطینی قید ہیں۔ اس سات ہزار کی تعداد میں بعض ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے متعلق اسرائیل سمجھتا ہے کہ ان کی ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

اسرائیل کے سابق انٹیلی جنس افسر ایوی میلمڈ نے کہا کہ یہ ایک رعایت ہے جسے کوئی بھی اسرائیلی حکومت کبھی قبول نہیں کر سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے پاس اس مرتبہ کھیل میں ایک بڑا کارڈ موجود ہے یہ کارڈ غزہ میں تعینات اس کے فوجی اور ٹینک ہیں۔

ڈیوڈ خلفا نے نشاندہی کی ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس گرفتار فلسطینی جنگجوؤں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے اور یرغمالیوں کے مقام کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسرائیل خصوصی فورسز کا استعمال کرتے ہوئے حملے کر سکتا ہے۔

ان فوجیوں کا مسئلہ بھی ابھی باقی ہے جو پکڑے گئے اور بعد میں مارے گئے۔ ان کی باقیات کو نکالنے اور خصوصی تقریبات کے ساتھ دفن کرنے کے لیے بھی عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ آزاد ماہر ایوا کولو ریوٹیس نے کہا کہ اسرائیلی سڑکوں پر غزہ سے لاشوں کی واپسی کے لیے بھی دباؤ ابھی مزید بڑھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں