امدادی خیراتی ادارے نے غزہ میں 'مکمل تباہ کن' حالات کی بنا پر خطرے کی گھنٹی بجا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل اور حماس کے درمیان دو ماہ سے زیادہ کی جنگ کے بعد امدادی خیراتی اداروں نے غزہ میں ایک "مکمل تباہ کن" صورتِ حال کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور بھوک اور بیماری کے پھیلنے سے خبردار کیا ہے۔

اس ہفتے صحافیوں کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس میں بین الاقوامی تنظیموں نے ایک تاریک تصویر پیش کی جسے سیو دی چلڈرن نے غزہ کی پٹی میں رونما ہونے والے "خوف و دہشت" کا نام دیا ہے۔

برطانیہ میں مقیم ایک اور خیراتی ادارے آکسفیم کی بشریٰ خالدی نے کہا، "غزہ کی صورتِ حال صرف ایک آفت نہیں، یہ مکمل تباہی ہے جو فلسطینی عوام کے لیے ممکنہ طور پر ناقابل واپسی نتائج کی حامل ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "غزہ کے اندر اسرائیل کے محفوظ علاقے محض خام خیالی اور سراب ہیں۔"

7 اکتوبر کو سرحد پار سے جنوبی اسرائیل میں حماس کے مزاحمت کاروں کے داخل ہونے اور یلغار کر دینے کے بعد اسرائیل نے غزہ کے خلاف بڑے پیمانے پر انتقامی فوجی کارروائی شروع کر دی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کے حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور تقریباً 240 کو یرغمال بنا لیا گیا۔

حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ جنگ میں 17,487 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور اس سے علاقے کے 2.4 ملین افراد میں سے ایک اندازے کے مطابق 1.9 ملین بے گھر ہو گئے اور وسیع علاقے ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے اوچا کے مطابق غزہ کی پٹی کے 36 میں سے صرف 14 ہسپتال اس وقت کسی بھی صلاحیت میں کام کر رہے ہیں اور ضرورت مندوں تک بہت کم امداد پہنچ رہی ہے۔

سیو دی چلڈرن کی الیگزینڈرا سائیہ نے کہا، "جو لوگ بمباری سے زندہ بچ گئے ہیں، انہیں اب بھوک اور بیماری سے موت کے خطرے کا سامنا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہماری ٹیمیں ہمیں بتا رہی ہیں کہ زخموں سے کیڑے نکالے جا رہے ہیں اور بے ہوشی کی دوا کے بغیر بچوں کے اعضا الگ کیے جا رہے ہیں،" سینکڑوں لوگ "اکیلے بیت الخلاء" کے لیے قطار میں کھڑے ہیں یا کھانے کی تلاش میں سڑکوں پر پھر رہے ہیں۔"

'مردہ خانے بھرے پڑے ہیں'

دشمنی میں ایک ہفتہ کے وقفے کے دوران حماس نے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے ساتھ یرغمالیوں کا تبادلہ کیا جس کے ختم ہونے بعد اسرائیل نے حماس کے خاتمے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اپنی بمباری اور زمینی کارروائی پر زور دیا۔

اسرائیلی فوج نے ایک نقشہ شائع کیا جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد غزہ کے باشندوں کو "اگر ضروری ہو تو اپنی حفاظت کے لیے مخصوص جگہوں سے انخلاء کرنے" کے قابل بنانا تھا۔

لاکھوں شہری شمالی غزہ سے فرار ہو کر جنوب میں پناہ کی تلاش میں ہیں لیکن وہاں جا کر پتا چلتا ہے کہ وہ بھی بمباری کی زد میں ہے۔

نارویجن ریفیوجی کونسل کی شائنا لو نے کہا، "سادہ سی بات ہے غزہ میں کوئی محفوظ جگہ نہیں، اور ہم نے یہ (اسرائیلی) ہدایت کے بعد سے دیکھا ہے جس میں لوگوں سے شمالی غزہ سے جنوب کی طرف بھاگنے کو کہا گیا ہے۔"

"جنوبی غزہ کے پرہجوم علاقوں میں فلسطینیوں پر جبر کرنے والی اسرائیلی ہدایات جس میں حفاظت یا واپسی کی کوئی ضمانت نہیں ہے، بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔"

میڈیسن ڈو مونڈ (ڈاکٹرز آف دی ورلڈ) خیراتی ادارے کی سینڈرین سائمن نے بتایا کہ کس طرح جنوبی شہر خان یونس میں ان کا ایک ساتھی زخمی ہوا تھا "جب ایک ٹینک نے ایک اسکول پر حملہ کیا جہاں اس نے پناہ لے رکھی تھی۔"

اسے ہسپتال پہنچنے میں کئی گھنٹے لگے" جہاں "تھکی ہوئی" نرسیں فرش پر پڑے سینکڑوں مریضوں کی نگہداشت کرنے کی شدت سے کوشش کر رہی تھیں۔

"غزہ کا ہسپتال مردہ خانہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ ناقابلِ قبول ہے۔" سائمن نے کہا۔

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی صدر ازابیل ڈیفورنی نے بھی ایسی ہی کہانی بیان کی۔

"ہم الاقصیٰ ہسپتال میں کام کر رہے ہیں جہاں یکم دسمبر سے روزانہ اوسطاً 150 سے 200 جنگ سے زخمی مریض آتے ہیں۔"

ڈیفورنی نے کہا۔ اس ہفتے کے ایک دن "انہیں زخمی مریضوں سے زیادہ لاشیں ملیں۔ ہسپتال بھرا پڑا ہے، مردہ خانہ بھرا پڑا ہے، ایندھن اور طبی سامان کی انتہائی کم مقدار باقی رہ گئی ہے۔"

'اندھا دھند قتلِ عام'

انہوں نے مزید کہا، "خان یونس کے ناصر ہسپتال میں بھی صورتِ حال تشویشناک ہے جہاں "آنے والے مریضوں میں سے 20 فیصد پہلے ہی مر چکے ہیںَ۔"

"اور مرنے والوں میں 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔"

ڈیفورنی نے "اندھا دھند قتلِ عام" کے بارے میں بات کی۔

انہوں نے کہا، "اسرائیل نے غزہ کی طبی سہولیات کے تحفظ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔"

اقوامِ متحدہ کے اداروں نے بارہا غزہ میں صحت اور خوراک کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال سے خبردار کیا ہے۔ جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں امنِ عامہ کی خرابی ہوگی۔

عالمی غذائی پروگرام نے کہا ہے کہ "قحط" کا خطرہ بہت زیادہ ہے جبکہ عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں تہذیب انحطاط پذیر ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے کہا، "رہنے کے حالات اور صحت کی نگہداشت کی کمی کے پیشِ نظر غزہ میں بمباری سے زیادہ لوگ بیماری سے مر سکتے ہیں۔"

انہوں نے متعدد بیماریوں اور امراض کے بارے میں خبردار کیا جن میں سانس کا شدید انفیکشن، اسہال، جلد کے دانے اور چکن پاکس شامل ہیں جو زیادہ ہجوم اور خوراک، پانی، بنیادی حفظانِ صحت اور ادویات تک رسائی کی کمی کی وجہ سے ابھرے ہیں۔

ایکشن اگینسٹ ہنگر کی چیارا ساکارڈی نے ویڈیو کانفرنس میں بتایا، "صورتِ حال لوگوں کے وقار کو ختم کر رہی ہے کیونکہ وہ نہ خود کو اور نہ ہی اپنے بچوں کو صاف کر سکتے ہیں۔" انہوں نے غزہ میں جنگ بندی اور فوری امداد بھیجنے کا مطالبہ کیا۔

اسرائیل کے چوٹی کے اتحادی امریکہ نے جمعے کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا جس میں غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں