فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل ' فلسطینی ریاست کی امید کو زندہ رہنے دے'

بیلنکن نے عرب دنیا کا پیغام اسرائیل کو پہنچا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن اپنے اہم مشن کے لیے مشرق وسطیٰ کے دورے پر اب اسرائیل میں بھی ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ وہ اگرچہ اپنے اہداف کے تناظر میں کئی ملکوں کے دورے پر ہیں۔ لیکن مسلسل عرب رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد اسرائیل پہنچنے سے ان کی اسرائیل آمد عرب پیغام کے ساتھ ہوئی ہے۔

منگل کے روز اسرائیلی رہنماؤن سے ملاقانوں میں بلینکن نے یہ باور کرایا ہے' ابھی اسرائیل کے لیے ایک موقع موجود ہے کہ وہ خطے کے عرب ملکوں میں قبولیت پا سکے۔ اس کا ایک راستہ ہے کہ اسرائیل پائیدار فلسطینی ریاست کے راستے پر رہے۔'

بلینکن کا یہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران چوتھا دورہ ہے۔ وہ اور دوسرے امریکی اعلیٰ حکام ایک سائے کی طرح حالیہ تین ماہ کے دوران ایک سائے کی طرح علاقے میں موجود رہے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل قیادت سے ملاقاتوں کے دوران وہ سب کچھ شئیر کیا جو وہ اردن ، قطر، عرب امارات اور سعودی عرب میں دیکھ اور سن کر آئے۔

بلینکن کی اسرائیل میں اعلیٰ عہدے داروں کے علاوہ اسرائیلی جنگی کابینہ کے ارکان کے ساتھ ملاقاتیں بھی طے تھیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے پہلے ہی یہ بات کہی تھی کہ وہ غزہ میں امدادی سامان پہنچنے دینے کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔ نیز غزہ کے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی کوشش جاری رکھیں گے۔

واضح رہے جنگ کا چوتھا ماہ شروع ہونے پر غزہ میں 23210 فلسطینی اسرائیلی بمباری اور گولہ باری سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ 24 لاکھ کی تقریباً ساری آبادی ایک بار نقل مکانی کر چکی ہے۔ ایک خوفناک انسانی المیہ کا ماحول ہے۔

ادھر صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ چپکے چپکے اسرائیل سے کہہ رہا ہے کہ وہ غزہ سے اپنی کچھ افواج نکالنا شروع کر دے۔ خیال رہے امریکہ اسرائیل کی غزہ میں جنگ کی کھلی حمایت کرنے والا سب سے اہم ملک ہے۔

وزیر خارجہ بلینکن کے دورے کے دوران عرب رہنماؤں نے دہائیوں پر محیط اسرائیل تنازعہ ایک پائیدار حل کی طرف لانے کی بات کی ۔ جس میں فلسطینی ریاست کے لیے عملی طور پر راستہ موجود ہو۔

بلینکن نے اپنے اسرائیلی ہم منصب کاٹز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ' میں نے مشرق وسطیٰ میں جتنے رابطے اور ملاقاتیں کی ہیں۔ اس تناظر میں میری معلومات یہ ہیں کہ اب بھی عرب ملکوں میں حقیقی مواقع باقی ہیں۔ لیکن ہمیں انتہائی مشکل مرحلے سے گذرتے ہوئے یہ یقینی بنانا ہے کہ سات اکتوبر والاواقعہ دوبارہ کبھی نہ ہو سکے۔ اس کی خاطر ایک مختلف مگر بہتر مستقبل کے لیے کام کرنا ہے۔ '

اسرائیل کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ اس نے اپنی افواج کو شمالی غزہ کے نصف حصے سے نکال کر ٹارگٹ حملوں اور بمباری کی حکمت عملی شروع کرنے کا سوچا ہے، تاہم جنوبی غزہ میں اب بھی شدید جنگ جاری ہے۔

وزارت صحت غزہ کے مطابق منگل کے روز صرف اقصیٰ ہسپتال میں 57 جاں بحق افراد اور 65 زخمی فلسطینی لائے گئے ہیں۔ خود اسرائیل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ خان یونس کے علاقے میں 40 جنگجو ہلاک کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں