بحیرہ احمر میں کشیدگی، بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر ' نجی طور پر ' ایران جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت کے اعلیٰ ترین سفارت کار غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے باعث بحیرہ احمر میں پیدا ہو چکی کشیدگی پر بات چیت کے لیے پیر کے روز تہران جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ فیصلہ یمن پر جمعہ کی رات امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

ادھر واشنگٹن میں صدر جوبائیڈن نے ایران کو ایک نجی پیغام اسی بحیرہ احمر میں حوثی حملوں کے حوالے سے نجی پیغام بھیجے جانے کا کہا گیا ہے۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ جے شنکر جن کے ایرانی دورے کو نجی ہی کہا جارہا ہے امریکہ کا یہی پیغام لے کر جارہے ہیں یا بھارت کا کوئی اپنا ' انیشیٹو ' ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی تہران جانے کی خبر پیر کے روز کے حوالے سے ہے۔ بھارتی ذرائع پیر کے دن تہران جانے کا بتا رہے ہیں تاہم وہ اس دورے کو نجی بتاتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں طرف سے غیر رسمی مگر تفصیلی بات چیت ہو گی۔

تاہم یہ بات اہم ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ کی طرف سے اس اطلاع کے سامنے آنے سے کچھ ہی دیر پہلے جے شنکر کی امریکی ہم منصب انٹنی بلنکن سے بات چیت ہوئی تھی۔

امریکہ اور بھارت کے درمیان حوثیوں کے تجارتی جہازوں پر حملوں کے بارے میں مشترکہ قسم کی تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکہ محفوظ جہازرانی کے لیے بھارتی موقف کا خیر مقدم کر چکا ہے۔ اب توقع کی جارہی ہے کہ بھارت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔

بھارت اور ایران کے درمیان تعلقات اچھے تعلقات موجود رہے ہیں لیکن اب بھارت امریکہ کی طرف زیادہ مائل ہو چکا ہے۔امریکہ جن کے ساتھ اپنے اختلافات کے حوالے سے بھی بھارت پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ امریکہ کو امید ہے کہ بھارت معاشی اور سفارتی میدان میں چین کے مقابل اہم کرداد ادا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں