فلسطین اسرائیل تنازع

تباہی اور موت کے درمیان خوشی، رفح میں ایک اسکول کے اندر بے گھرجوڑے کی شادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں پچھلے چار ماہ سے صرف جنگ، بمباری، قتل عام اور تباہی اور بربادی ہی کی خبریں آرہی ہیں۔ اس تباہی اور بربادی کے جلو میں فلسطینیوں نے زندگی کو معمول کے مطابق چلانے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔ اس کی تازہ مثال غزہ کی پٹی کے علاقے رفح کے ایک اسکول میں ایک جوڑے کی شادی ہے۔

مصطفیٰ اور افنان نے رفح میں بے گھر لوگوں سے بھرے ایک اسکول میں بچوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں شادی کی۔ انہوں نے غزہ میں جنگ، تباہی اور موت کے باوجود زندہ رہنے کا عزم کیا۔

17 سالہ افنان نے 26 سال کی عمر کے مصطفیٰ سے شادی کے موقع پر سرخ رنگ کی کڑھائی والا سفید فلسطینی لباس زیب تن کیا۔ جب کہ دلہا نے کالی آستین والی جیکٹ اور جینز پہنی تھی۔

فلسطین ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) سے منسلک اسکول میں شادی کی تقریب ہوئی جس میں نوبیاہتا جوڑے کو ایک کلاس روم میں بٹھایا گیا جہاں کپڑوں کے ڈھیر لگے ہوئےدیکھے جا سکتے ہیں۔

7 اکتوبر کو جنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی ان کی شادی کا منصوبہ ناکام ہو گیا تھا۔

فلسطینی دلہن افنان جبریل (C) 12 جنوری 2024 کو اسرائیل اور عسکریت پسند گروپ کے درمیان جاری لڑائیوں کے درمیان، 12 جنوری 2024 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے رفح کے السلام محلے کے  اونروا اسکول میں اپنی شادی کے دوران اپنے والد (بائیں جانب) کے ساتھ تالیاں بجا رہی ہے۔ حماس (تصویر اے ایف پی)

دولہا کے چچا ایمن شملخ نے کہا کہ "ہمیں اپنے گھر خالی کرنے کے لیے کہا گیا۔ جب غزہ شہر پر پہلا حملہ ہوا تو ہمیں نکال دیا گیا۔ یہ 27 اکتوبر کو اسرائیلی فورسز کی زمینی کارروائی شروع کرنے سے پہلے ہوا تھا۔

شملخ نے مزید کہا کہ "ہم مصر کی سرحد پر واقع جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح آئے تھے، تاکہ اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان جاری لڑائی سے بچ سکیں۔ وہاں پر بڑی تعداد میں بے گھر افراد عارضی خیموں میں ہیں۔

اس نے کہا کہ "ہم اسکولوں اور خیموں میں آباد ہو گئے۔ جس گھرمیں نوبیاہتا جوڑے کو رہنا تھا وہ تباہ ہو گیا۔ جیسے جیسے جنگ جاری رہی ہم نے دیکھا کہ ان کے لیے شادی کرنا بہتر ہے۔"

دلہن کے والد محمد جبریل نے نشاندہی کی کہ "شادی کا معمول کا سامان دستیاب نہیں ہے۔ یہ روایتی شادی نہیں ہو سکتی، لیکن کپڑے دستیاب ہیں، اگرچہ اب نایاب اور مہنگے ہیں‘‘۔

افنان کو کچھ کاسمیٹکس اور لپ اسٹک کے علاوہ کچھ کپڑے بھی مل گئے۔

محرومی، بھوک، بارش سے چھوڑے گئے پانی کے انباروں اور بیت الخلاء کی عدم موجودگی باوجود اس کی خوبصورتی اس کی شادی کے دن ہی عیاں تھی۔

اسکول کے صحن اور اس کی راہداریوں میں جمع ایک ہجوم کی نظروں کے نیچے، جوڑا ایک سیاہ کار میں سوار ہوا اور اس خیمے کی طرف روانہ ہوا جس میں وہ قیام کریں گے۔

دلہن کے والد نے کہا کہ "ہم وہ لوگ ہیں جو موت، قتل اور تباہی کے باوجود زندگی سے پیار کرتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں