روسی وزارت خارجہ نے ماسکو میں ہونے والی بات چیت کے دوران حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے زیر حراست تمام یرغمالیوں کو رہا کرے۔ دوسری جانب غزہ میں انسانی بحران شدید تر ہوجاتا جا رہا ہے اور اسرائیلی بمباری سے اموات کا سلسلہ رک نہیں سکا ہے۔
وزارت خارجہ نے روسی نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف اور حماس کے سیاسی بیورو کے رکن موسیٰ ابو مرزوق کے درمیان ملاقات کے بعد کہا "روس نے سات اکتوبر کو یرغمال بنائے گئے تمام اسرئیلیوں کی رہائی پر ضرورت پر زور دیا۔
ہزاروں اموات
قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس نے اچانک حملہ کیا تھا جس کے دوران اس کے ارکان نے اسرائیلی فوجی اڈوں اور سرحدی بستیوں میں گھس کر حملہ کیا تھا۔ اس حملےکے نتیجے میں تقریباً 1,140 افراد مارے گئے تھے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔
حملے کے دوران تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنا کرغزہ منتقل کیا گیا تھا اور ان میں سے تقریباً 100 کو نومبرکے آخرمیں جنگ بندی کے دوران رہا کر دیا گیا تھا۔ اسرائیل کے مطابق ان میں سے 132 غزہ میں موجود ہیں اور ان میں سے 27 کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مارے گئے ہیں۔
اسرائیل نے حماس کو "ختم" کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ گذشتہ 27 اکتوبر سے شروع ہونے والا زمینی حملہ تباہ کن ثابت ہوا ہے جس میں اب تک 24,762 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ان میں زیادہ تر خواتین اور بچوں کی ہیں۔
-
اسرائیلی فوج کا غزہ میں قیدیوں کی تلاش کے لیے قبریں اکھاڑنے کا اعتراف
سوشل میڈیا پر اسرائیلی فوجی گاڑیوں اور بلڈوزروں کے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے ...
مشرق وسطی -
قیدی، قتل غارت اور اربوں ڈالرکا نقصان،غزہ جنگ اسرائیل کے لیے بوجھ بن گئی
غزہ کی پٹی میں گذشتہ سات اکتوبر کوشروع ہونے والی جنگ نہ صرف فلسطینیوں بلکہ خود ...
مشرق وسطی -
غزہ میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے تین ماہ کی جنگ بندی کی تجویز
اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے جمعہ کے روزاطلاع دی ہے کہ اسرائیل اور حماس کے ...
مشرق وسطی