حماس’اونروا‘میں سرایت کر چکی، تنظیم کے سکول دہشت گردی سکھاتے دیتے ہیں: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (اونروا) غزہ کی پٹی میں حماس کے اسرائیل پر گذشتہ برس سات اکتوبر کے حملے میں ملوث ہونے والے اپنے ایک درجن اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک بار پھر ریلیف ایجنسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے ساتھ عدم تعاون پر زور دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے سوموار کے روز کہا کہ ان کے ملک کے پاس ایک انٹیلی جنس فائل ہے جس میں ایجنسی کے کچھ ملازمین کے سات اکتوبر کے حملے میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

"حملے میں 13 اہلکاروں نے حصہ لیا"

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی اس تنظیم میں "حماس سرایت" کر چکی ہے۔ انہوں نے برطانوی ٹاک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "ہم نے پتا لگا لیا ہے کہ اونروا کے 13 کارکنان نے گذشتہ برس سات اکتوبر کے قتل عام میں بالواسطہ یا بلاواسطہ حصہ لیا تھا"۔

انہوں نے ’اونروا‘ پر الزام لگایا کہ اس کے سکولوں میں "اسرائیل کے خاتمے کی تعلیمات اور دہشت گردی کی تعریف اور تعلیم دی جاتی ہیں"۔

اونروا کے ایک سکول میں فلسطینی طالبہ
اونروا کے ایک سکول میں فلسطینی طالبہ

اسرائیلی وزیر اعظم نے اس سے قبل محصور فلسطینی پٹی کے تمام اسکولوں پر دہشت گردی اور نفرت کی تعلیم دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں آئندہ حکومت اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں ہو گی بلکہ اسے اسرائیل کے لیے رواداری کا پیغام عام کرنا ہو گا۔

گذشتہ ہفتے تل ابیب نے حماس کے حملے میں اقوام متحدہ کے ایجنسی کے تقریباً 12ملازمین کے ملوث ہونے کے الزامات جمع کرائے، جس کے بعد اقوام متحدہ نے نو ملازمین کو برطرف کرنے اور تحقیقات مکمل ہونے تک انہیں کام سے معطل کر دیا تھا۔

اگرچہ اس مسئلے نے کئی ممالک کے شکوک وشبہات کو جنم دیا، لیکن انہوں نے گذشتہ چند دنوں کے دوران ایجنسی کو اپنی امداد اور مالی تعاون معطل کردیا ہے۔

جبکہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے ’اونروا‘ کے لیے فنڈنگ روکنے کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں 20 لاکھ سے زیادہ لوگ زندہ رہنے کے لیے اس تنظیم پر انحصار کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں