اپنی سرزمین، مفادات اور شہریوں پر کسی بھی حملے کا "فیصلہ کن اور سخت" جواب دیں:ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کی طرف سے اردن میں اپنے فوجیوں پر مہلک حملے کا جواب دینےکی دھمکیوں کے بعد ایران نے ممکنہ طورپر کسی بھی حملے کا سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی’آئی آر این اے‘ نے آج بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ ایران اپنی زمینوں، مفادات اور شہریوں پر کسی بھی حملے کا "فیصلہ کن اور سختی سے" جواب دے گا۔

ایجنسی نے اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کے حوالے سے کہا ہے کہ تہران کو گذشتہ دو دنوں کے دوران ثالثوں کے ذریعے امریکا سےکوئی پیغامات موصول نہیں ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے نے مزید کہا کہ تہران اپنی سرزمین پر کسی بھی حملے کو "ریڈ لائن" سمجھتا ہے جس کا مناسب اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے کل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ان کا ملک "خطے میں کسی فرد یا گروہ کے اقدامات کا ذمہ دار نہیں ہے"۔

ایروانی نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کو بھیجے گئے ایک مکتوب میں واضح کیا ہے کہ عراق اور شام میں امریکی فوجیوں اور تنصیبات پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے الزامات "غیر ذمہ دارانہ ،غیر منصفانہ اور بے بنیا ہیں"۔

ایرانی ایلچی کا یہ بیان امریکی صدر جو بائیڈن کے اعلان کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں انہوں نےکہا ہے کہ امریکا نے اردن میں امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے والے عراقی گروپ کو جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس ہفتے کے شروع میں واشنگٹن نے ایک حملے میں اپنے تین فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا جس میں شام اوراردن کی سرحد پر التنف بیس سے تعلق رکھنے والی عمارت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں