حماس اور اسرائیل کے درمیان 6 ہفتے کی جنگ بندی کا نیا معاہدہ متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کو روکنے کے لیے جاری کوششوں کی امیدو وبیم کی کیفیت میں ایک بارپھر معاہدے کی توقع کی جا رہی ہے۔

العربیہ/الحدث ذرائع نے انکشاف کیا کہ ثالثوں نے حماس کو جنگ بندی کی تجویز پیش کی جس میں حماس نے جنگ بندی شروع کرنے کی ابتدائی منظوری کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ثالثوں نے غزہ کی پٹی میں 6 ہفتوں کے لیے جنگ بندی کی پیشکش کی اور مجوزہ جنگ بندی میں حماس کے زیر حراست 36 یرغمالیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔ متوقع معاہدے کے تحت حماس روزانہ ایک اسرائیلی یرغمالی کو رہا کرے گی۔

3 ہزار قیدی

متوقع معاہدے کے تحت حماس نے اسرائیل کے زیرحراست 3000 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ مجوزہ جنگ بندی معاہدے کو 3 کے بجائے 4 مراحل میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

ذرائع نے تصدیق کی کہ امریکہ غزہ میں جنگ بندی کے مجوزہ معاہدے کے پہلوؤں کی حمایت کرتا ہے اور اسرائیل سے اسے قبول کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

100 قیدی

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل کی جنگ بندی گذشتہ نومبر (2023) کے آخر میں ایک ہفتے تک جاری رہی تھی، جس کے تحت 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حماس کے اچانک حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے تقریباً 100 قیدیوں کو رہا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ .

اس معاہدے کے تحت تین سو فلسطینیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی تھی۔

اسرائیلی حکام کے مطابق قیدیوں کے اہل خانہ کی جانب سے نئے تبادلے کے معاہدے کو قبول کرنے کے لیے شدید دباؤ برقرار ہے۔ اب بھی تقریباً 132 قیدی غزہ کی پٹی میں قید ہیں جن میں سے 28 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں