حالیہ حملے کے بعد امریکہ سے کوئی رابطہ نہیں: عراق کے وزیر اعظم

اتحادی افواج کی عراق میں موجود بغداد کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور ’داعش‘ مخالف عالمی عسکری اتحاد کے مشن کو ختم کرنے کا مقصد ان کے مشیروں پر حملوں کے تمام جواز کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "عراق کی سرزمین پر کسی بھی فوجی حملے کو تمام فریقین نے مسترد کر دیا ہے"۔

’امریکہ سے کوئی رابطہ نہیں‘

انہوں نے العربیہ/الحدث کو دیے گئے بیان میں مزید کہا کہ "حالیہ حملے کے بعد ہمارا امریکہ سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ کردستان کا علاقہ اتحادی افواج کو نکالنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کا حصہ ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اتحاد کا آغاز عراقی درخواست سے ہوا تھا اور "عراق کی درخواست پر ختم بھی ہو گا۔ ایک فارمولہ طے پا گیا ہے جس میں امریکی ردعمل کو روکنے کے بدلے میں عسکری دھڑے اپنے حملے بند کر دیں گے"۔

عراقی حکومت کے ترجمان باسم العوادی نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکہ کی سربراہی میں داعش کے خلاف لڑنے والا بین الاقوامی اتحاد "عراق میں سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے"۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے منسلک دھڑوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کے حوالے سے واشنگٹن کے ساتھ کسی قسم کے ہم آہنگی نہیں۔

امریکہ کی طرف سے کیے گئے حملوں کے بعد عراقی وزارت خارجہ نے امریکی ناظم الامور کو طلب کرکے ان سے ان حملوں پر احتجاج کیا تھا۔

"کوآرڈینیشن نہیں ہوا"

العوادی نے مزید کہا کہ امریکی فریق نے جان بوجھ کر "حقائق کو دھوکہ دیا اور اس حملے کے ارتکاب کے لیے پیشگی رابطہ کاری کا جھوٹا دعویٰ کیا‘‘۔ امریکا کے اس جھوٹے دعوے کا مقصد بین الاقوامی رائے عامہ کو گمراہ کرنا اور تمام بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ دعویٰ مسترد کیا جاتا ہے‘‘۔

عراقی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے عراق اور خطے میں سلامتی کو "تباہی کے دہانے پرلے جائیں گے اور مزید کہا کہ بین الاقوامی اتحاد کی موجودگی "عراق میں سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے کی ایک وجہ بن گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ عراق نے گذشتہ ہفتے کی صبح امریکہ کے حملوں میں عام شہریوں سمیت 16 افراد کی ہلاکت اور 25 کے زخمی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ یہ حملہ اردن کی سرحد پر امریکی اڈے پر کیے گئے حملے اور اس میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں