مشرق وسطیٰ

’گذشتہ برس غرب اردن میں غیر قانونی اسرائیلی فوجی چوکیوں کی ریکارڈ تعداد تعمیر ہوئی‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی آباد کاروں نے سال 2023 کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں نگرانی کی غرض سے کسی ضابطے قاعدے کے بغیر ریکارڈ تعداد میں فوجی چوکیاں تعمیر کیں۔

اس امر کا انکشاف آبادکاری منصوبوں پر نظر رکھنے والے ایک نگران ادارے نے جمعرات کے روز کیا۔ اسرائیلی گروپ ’’پیس ناؤ‘‘ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی غیر تسلیم شدہ 26 بستیاں گذشتہ سال قائم کی گئیں جن میں سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے قائم کردہ تقریباً 10بستیاں بھی شامل تھیں۔

رپورٹ نے اس اضافے کو انتہائی دائیں بازو کی شخصیات کی حکومت میں آمد سے منسلک کیا۔ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو دسمبر 2022 میں انتہائی دائیں بازو اور انتہائی قدامت پسند جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں اقتدار میں واپس آئے۔

پیس ناؤ نے کہا، اس کے بعد سے اسرائیلی حکام نے "آباد کاروں کو بلا روک ٹوک چوکیاں قائم کرنے کی اجازت دی ہے۔"

"نیتن یاہو حکومت کے تحت ہم نے بستیوں کے لیے بے مثال حمایت دیکھی ہے۔"

نیتن یاہو نے 1996 سے 1999 تک اسرائیلی حکومتوں کی قیادت کی، پھر 2009 سے 2021 تک۔ اور پھر 2022 کے آخر میں اقتدار میں واپس آئے۔

ان کے موجودہ حکمران اتحاد میں ایتمار بن گویر اور بیذلیل سموٹرچ جیسے مذہبی اور شدید قوم پرست وزراء شامل ہیں جو آبادکاری کی تحریک کے سخت حامی ہیں۔

دونوں خود انہی بستیوں میں رہتے ہیں

پیس ناؤ نے کہا کہ 2023 میں سب سے زیادہ وائلڈ کیٹ آؤٹ پوسٹ دیکھی گئیں -- جو اسرائیلی حکام کی منظوری کے بغیر قائم کی گئیں -- جب سے یہ رجحان 1996 میں شروع ہوا۔

اس میں کہا گیا کہ سابقہ ریکارڈ تعداد 23 تھی جو 2002 میں دوسری فلسطینی انتفاضہ یا بغاوت کے دوران دیکھنے کو ملی۔

اس کے مقابلے میں 2022 میں صرف پانچ کا قیام عمل میں آیا جب اسرائیل کی حکومت نیتن یاہو کی لیکوڈ یا مذہبی صہیونی پارٹی کے بغیر سیاسی جماعتوں کے ایک وسیع سلسلے پر مشتمل تھی۔

تعمیر کے بعد کسی ضابطے قاعدے کے بغیر نگرانی کے لیے اندھا دھند تعمیر کی جانے ان چوکیوں کو اکثر اسرائیلی حکام قانونی حیثیت دے دیتے ہیں۔

پیس ناؤ نے کہا کہ 2023 میں تقریباً 15 چوکیوں نے سابقہ قانونی حیثیت کا عمل شروع کیا۔

تقریباً 490,000 اسرائیلی مغربی کنارے کی درجنوں بستیوں میں رہتے ہیں جنہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔ وہ علاقے میں تقریباً تیس لاکھ فلسطینیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

فلسطینی ان بستیوں کو جنگی جرم اور امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اسرائیل نے 1967 کی عرب-اسرائیل جنگ میں غزہ کی پٹی اور مشرقی یروشلم کے ساتھ مغربی کنارے پر قبضہ کر لیا تھا۔ فلسطینی اپنی مستقبل کی آزاد ریاست کے لیے ان علاقوں کے خواہاں ہیں۔

برطانیہ اور امریکہ کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے الزام میں چار افراد پر پابندیاں عائد کر دی گئی جس کے بعد فرانس نے منگل کے روز 28 "انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں" پر پابندی عائد کر دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں