بحیرہ احمر میں کشیدگی، سعودی عرب کی جہازرانی کی خود کفالت پر مبنی حکمت عملی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیل کی غزہ میں ساڑھے چار ماہ سے جاری جنگ کے بعد بحیرہ عرب میں بھی کشیدگی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس دوران جہازوں اور سمندر میں موجود جنگی سازو سامان کو نشانہ بنانے سمیت ملاح بھی حوثی حملوں کی زد میں رہتے ہیں۔

تاہم سعودی عرب کی لاجسٹک کی غیر معمولی صلاحیت اور کارگو کے شعبے میں جہاز رانی کی اہلیت کا اسے فائدہ ہو رہا ہے۔کہ باب المندب کے راستے سے بھی فوری فائدہ ااٹھانے کی پوزیشن میں ہے۔ اس لیے اس نے کسی تعطل کے بغیر کاروبار جاری رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی آئل کمپنی ' آرامکو' کو اس کشیدہ صوررت حال کے باوجود فائدہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی کمپنی ' آرامکو' اپنی شرق و غرب میں موجود تیل سپلائی کرنے کی اہلیت کے باعث بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسروں ملکوں کی تیل بردار کمپنیوں کے مقابلے میں آگے ہے۔ جس سے اسے مالی فوائد ملنے میں کمی کے بجائے اضافہ ہے۔

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مملکت کو متبادل مہنگے راستوں کی محتاجی نہیں ہے۔ یہ خود انحصاری مشکل صورت حال میں بھی سعودی عرب کے لیے کاروباری اور مال برداری کے ماحول کو دلکش بنا دیتا ہے۔ جبکہ بہت سی جہازران کمپنیوں اور ملکوں کو لمبے سمندری راستوں سے جانا پڑ رہا ہے۔

یاد رہے یمن کے حوثی ماہ نومبر 2023 سے بحیرہ احمر پر امریکہ ، اسرائیل اور اسرائیلی اتحادیوں کیے جہازوں کو بطور خاص اور عام تجارتی جہازوں کو بالعموم نشانہ بنانے کے لیے راکٹ داغ رہے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ نے بھی حوثیوں کے مراکز پر یمن میں کئی بھر پور حملے کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔

حوثیوں کے بحیرہ احمر میں حملے جاری

حوثیوں نے تین مہینوں میں 40 سے زیادہ مرتبہ تجارتی اور بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کی وجہ سے عالمی نے عالمی جہاز رانی میں خلل پیدا ہوا ہے اور جنوبی افریقہ کے ارد گرد طویل اور زیادہ مہنگے سفر سے گذرنا پڑ رہا ہے۔ نتیجتاً بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں کے لیے اور خاص طور پر نہر سویز کے راستے پر بھی چیلنج بن گئے ہیں۔ جس سے مصری آمدنی بھی متاثر ہوئی ہے۔

تیل کے کاروبار اور ترسیل و فراہمی کے ساتھ ساتھ تیل کی منڈی کے اتار چڑھاو کو سمجھنے والے ماہرین اس صورت حال کا اپنے اپنے انداز میں تجزیہ کر رہے ہیں۔ ان میں اسے ایک ماہر میٹ اسٹینلے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے بحیرہ احمر کے علاقے میں رکاوٹوں کے نتیجے میں نہر سویز کی ٹریفک میں 45 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

یہ بنیادی طور پر جنوب سے شمال کی طرف کی نقل و حرکت پر اثرڈال رہی ہے۔ روسی مال بردار بحری جہاز اسے استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔

اسٹینلے نے ٹریفیگورا سے چارٹرڈ روسی کارگو بحری جہاز پر گزشتہ ماہ کیے گئے حوثی حملے پر بات کرتے ہوئے کہا 'اگرچہ یہ واقعہ اہم تھا، لیکن اس کی درمیانی نوعیت کی وجہ سے روسی تیل کی نقل و حمل کے طریقوں کو تبدیل نہیں کرنا پڑا۔

 حوثی گروپ سے وابستہ یمنی کوسٹ گارڈ کے ارکان سمندر میں گشت کر رہے ہیں جب مظاہرین 4 جنوری 2024 کو غزہ کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بحیرہ احمر کے بندرگاہی شہر حدیدہ سے گزر رہے ہیں۔
حوثی گروپ سے وابستہ یمنی کوسٹ گارڈ کے ارکان سمندر میں گشت کر رہے ہیں جب مظاہرین 4 جنوری 2024 کو غزہ کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بحیرہ احمر کے بندرگاہی شہر حدیدہ سے گزر رہے ہیں۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے خام تیل کے لیے ٹینکروں کے کے راستوں کو بحیرہ روم یا شمال مغربی یورپ کی طرف منتقل کردیا جائے۔ کیونکہ سپلائی چین کا بحران پیدا ہوا اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

اسٹینلے کا کہنا ہے 'کیپ آف گڈ ہوپ کے ارد گرد مشرق وسطیٰ سے بحیرہ روم تک ٹینکر کا سفر فی بیرل کی بنیاد پر سوئز نہر کے راستے کے مقابلے میں تقریباً 57 فیصد زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔'

ان کے مطابق جاری تنازعات کے باوجود سعودی شپمنٹس کو خطرات سے بچایا گیا ہے۔ ' آرامکو' راس تنورا اور جوائمہ سے مملکتی مغربی ساحل تک خام تیل کی ترسیل کو برقرار رکھی گئی ہے۔'

واضح طور پر حوثیوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جہازوں اور ٹینکروں کو اپنے حملوں سے بچائے رکھنے کی پالیسی بنا رکھی ہے۔کیونکہ 2023 میں ان ملکوں کی باہمی دشمنی میں کمی ہو چکی ہے۔ یہ بات ان ملکوں کے مالی فائدے کو بڑھا رہی ہے اور مشکلات کو کم کر رہی ہے۔ اسٹینلے نے مملکت کے تیل کے کاروبار کے ان منفرد فوائد کا ذکر کرتے ہوئے کہا سعودی عرب کا خام تیل مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔

مملکت کی مسابقتی فائدہ

سعودی عرب کو یورپ میں تیل بھجوانے کے لیے آبنائے باب المندب سے الگ رہتے ہوئے بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی صلاحیت سے فائدہ ہو رہا ہے۔یہ سٹریٹجک فائدہ ہے اس فائدے میں مملکت کی مشرقی صوبے میں پائپ لائن اور ریفائنریزکو ذریعے تیل کی ترسیل مفید تر سہولت ہے۔ علاوہ ازیں باب المندب کو نظر انداز کرتے ہوئے یورپی کو ترسیل میں فائدہ ہورہا ہے۔

تیل کے کاروبار کے ماہر کے مطابق ' آرامکو اس پوزیشن بحیرہ احمر کے مختصر راستے سے خام تیل کو موثر انداز میں یورپ پہنچانے پر قادر ہے۔ یہ راستہ لاگتی اخراجات کے حوالے سے مفید تر ہے۔ یہ ' آرامکو' کے اعتماد میں اضافے کا باعث ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں