فلسطینی حکام نے رفح کراسنگ کے فلسطینی اطراف پر دھاوا بولنے اور اس کے ایک اندرونی ہال کو نذر آتش کرنے کے حوالے سے حقائق کا انکشاف کیا ہے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ رفح کراسنگ پر دھاوے کے دوران ایک اندرونی ہال کے نذرآتش کرنے خبریں بے بنیاد ہیں تاہم مشتعل مظاہرین نے امدادی ٹرکوں کے آگے ٹائر جلا کر احتجاج کیا۔
"امداد نہ ملنے کی وجہ سے شہریوں میں غم و غصہ"
کراسنگ کے ترجمان وائل ابوعمر نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ کراسنگ یا اس کے کسی اندرونی ہال کو نذر آتش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بس اتنا ہوا کہ متعدد فلسطینی شہریوں نے کراسنگ کے سامنے امدادی ٹرکوں کے آگے ٹائر جلائے حکام نے فوری طور پر صورتحال کو قابو میں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بے گھر لوگ ناراض تھے کیونکہ دو ہفتوں سے ان تک کوئی امداد نہیں پہنچی تھی۔
حماس پولیس کے ہاتھوں مارا گیا
تحریک فتح کے رہ نما عبدالفتاح دولہ نے کہا کہ امداد کی رسائی میں کمی اور تقسیم کے عمل میں افراتفری نے بے گھر فلسطینیوں میں مزید غم وغصے کی کیفیت پیدا کردی۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے رویے اوربیانات کی وجہ سے غزہ کی پٹی میں جو صورت حال بن چکی ہےاس سے افراتفری میں اضافہ ہوا ہے۔ غزہ کی پٹی کو جس قدر نقصان اور تباہی کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد ایک ایسے معاہدے کو قبول کرنے پر آمادگی فلسطینیوں کی قربانیوں کے ساتھ مذاق ہے۔ حال ہی میں رفح میں حماس کے ہاتھوں ایک شہری کا قتل بھی شامل ہے، جس کی وجہ سے وہاں حماس کی موجودگی کی وجہ سے رفح کراسنگ پر حملہ کیا گیا۔