فلسطین اسرائیل تنازع

بھارتی ٹریڈ یونین نے اسرائیل اسلحہ بھجوانے والی شپ منٹس کے لیے کام کرنے سے انکارکردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سمندروں میں مال برداری کی صنعت سے وابستہ کارکنوں کی یونینوں کی فیڈریشن نے بھارتی حکام کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے اسلحہ لے جانے کے امور میں حصہ نہیں لیں گے۔ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دنوں میں بھارت سے اسلحے کی ترسیل میں اس رکاوٹ کی یہ اطلاع غیر معمولی واقعہ ہے۔

واضح رہے اس سے قبل کارکنوں کی یونینوں نے اس طرح کے فیصلے مغربی ملکوں میں کیے تھے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اسرائیل کو اسلحہ سپلائی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ سات اکتوبر سے اب تک غزہ میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 29 ہزار ہو چکی ہے۔ جن میں بڑی تعداد فلسطینی بچوں اور عورتوں کی ہے۔

بھارتی ٹریڈ یونینوں کی فیڈریشن تقریباً ایسے 3500 مزدوروں اور کارکنوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ کارکن بھارت کی 11 بندر گاہوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ٹریڈ یونین کے ورکرز نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ معصوم فلسطینی بچوں اور عورتوں کی ہلاکتوں میں کردار ادا نہیں کرسکتے۔

غزہ میں اسرائیلی بمباری کے تسلسل کے خلاف بہت سے یورپی ملکوں میں بھی کارکنوں نے اسلحہ ساز کمپنیوں کو کارکنوں اور عوام کے اس طرح کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہالینڈ کو وہاں کی مقامی عدالت نے اسرائیل کو ایف 35 جنگی طیاروں کے فاضل پرزوں کی ترسیل نہ کرنے کا فیصلہ دیا ہے۔

بھارت اسرائیلی کے قریبی اتحادی ملکوں میں سے ایک ملک ہے لیکن عوامی سطح پر بھارت میں فلسطینیوں کی غیر معمولی حمایت پائی جاتی ہے۔ انڈین ٹریڈ یونین کے جاری کردہ بیان میں فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ٹی نریندرا راؤ نے کہا ہے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ ایسی کسی تجارت اور کاروبار میں مدد نہیں کریں گے جو اسرائیلی جبنگ کے حوالے سے ہوگی اور فلسطینیوں کے خلاف ہوگی۔

دریں اثناء بھارت نے بیس فوجی ڈرونز اسرائیل کو برآمد کیے ہیں تاکہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی جاسوسی اور نگرانی کے لیے اپنے 'فلیٹ' کو مضبوط کرنے کا موقع مل سکے۔ یہ بات 'این ڈی ٹی وی ' نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بتائی ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت اور اسرائیل کے ایک مشترکہ کاروباری ادارے نے بھی اسرائیلی فوج کے لیے نو سو ڈرون بھجوائے ہیں۔ اس جوائنٹ وینچر میں بھارتی کاروباری شخصیت گوتم اڈانی کا بڑا حصہ ہے۔

بھارت سے اسرائیل کے لیے اسلحہ کی یہ فروخت اور فراہمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ میں اسرائیلی جنگ جاری ہے اور بین الاقوامی عدالت انصاف نے اسرائیل کو فلسطینویں کی نسل کشی کو اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے روکنے کا حکم دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں