یمن میں حوثی باغیوں کوفوجی امداد دینے کی سابقہ امریکی دعووں کے باوجود خاص طور پر بحیرہ احمرمیں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے بعد ایران نے ایک بار پھر یمنی گروپ کی مدد کی تردید کی ہے۔
ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہتھیاروں اور آلات کے میدان میں حوثیوں کی صلاحیتیں مکمل طور پر مقامی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شام اور عراق میں مسلح دھڑوں اور لبنان میں حزب اللہ کے حوالے سے خطے کے بیشتر ممالک جہاں "مزاحمتی محاذ" کہلاتے ہیں، وہ اعلیٰ تکنیکی، پیداواری اور صنعتی صلاحیتوں تک پہنچ چکے ہیں۔
"ناکامی چھپانا"
ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں علم اور سائنسی مہارت کی منتقلی کی کوئی حد نہیں ہے۔ ان کا خیال تھا کہ "بعض مغربی ممالک کے ان کے ملک کے خلاف خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ کے الزامات کا مقصد یمنی حوثی گروپ کی عسکری قوت جو کمزور کرنا ہے اور اسے اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے پر سزا دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حوثیوں کے خلاف امریکی، برطانوی اور مغربی ممالک کے حملے اپنی ناکامی پرپردہ ڈالنے کی کوشش ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اگر واشنگٹن اور لندن بحری حملوں اور جہاز رانی کے معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی کے قیام میں مدد کرنی چاہیے۔
متنوع ہتھیار
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تازہ ترین امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایران نے حوثیوں کو متنوع اور بڑے ہتھیار فراہم کیے ہیں، جن میں مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ ساتھ کروز میزائل بھی شامل ہیں۔
انٹیلی جنس نے تصدیق کی کہ یہ تعاون 2015 میں شروع ہوا اور اب بھی جاری ہے۔
تاہم حالیہ مہینوں میں اس ایرانی حمایت کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے، خاص طور پر بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں میں اضافے نے ایران کی طرف سے حوثیوں کی مبینہ مدد کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے۔