اردن اور اسرائیل کے درمیان رابطہ پل پر تنازعہ، عمان کی طرف سے وضاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ چند دنوں سے اردن اور اسرائیل کے درمیان زمینی رابطہ پل کے حوالے سے سامنے آنے والے تنازعات اوراسرائیل کو اردن کے راستے سامان کی سپلائی پر عوامی حلقوں کی طرف سے آنے والے اعتراضات کے بعد عمان نے وضاحت کی ہے۔

دوسری جانب اردن وزیراعظم بشر الخصاونہ نے رابطہ پل کو اسرائیل کے لیے سامان کی سپلائی کےطور پر استعمال کرنے کے الزامات کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کردیا ہے۔

بشر الخصاونہ نے آج اتوار کو کہا کہ اردن اور اسرائیل کے درمیان ایسا کوئی زمینی رابطہ پل نہیں جس کے ذریعے اسرائیل کو سامان سپلائی کیا جا رہا ہے۔

’ایکس‘ پلیٹ فارم پرایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اردن اور اسرائیل کے درمیان کوئی زمینی رابطہ پل نہیں، نہ ہی اردن سے اسرائیل کو سامان سپلائی کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پچیس سال سے جو معمول چل رہا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اردن اور اسرائیل کے درمیان زمینی رابطہ پل کی باتیں محض ڈھونگ اور خیالی باتیں ہیں۔

پچیس سال سے جاری معمول

بشر الخصاونہ نے کہا کہ اردن اور اسرائیل کے درمیان نقل وحمل کے جو انتظامات پیچس سال قبل اختیارکیے گئے تھے وہ اب بھی جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ قضیہ فلسطین کےحوالے سے اردن کے موقف میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوششیں مسترد کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اردن اوراسرائیل کے درمیان خفیہ زمینی روابط کے بارے میں افواہیں اڑانا شرمناک ہے۔

قبل ازیں اردنی وزیر زراعت خالد الحنیفات نے کہا تھا کہ اردن سے اسرائیل کو سبزیوں اور پھلوں کی سپلائی نجی کمپنیوں کے ذریعے ہوتی ہے جس میں حکومت شامل نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں