فلسطین اسرائیل تنازع

نیتن یاھو نے نفرت کے بیج بوئے،بھوک کوبہ طورہتھیار استعمال کرنا جرم ہے: بوریل

اسرائیل نے فلسطینیوں کو تقسیم کرنے کے لیے حماس کو فنڈنگ کی اجازت دی۔ غزہ کی پٹی جدید دنیا میں تباہی کی بدترین مثال بن چکی ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں تقریباً 5 ماہ کی خونریز جنگ کے بعد تباہ کن صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انتباہات میں اضافے کےجلو میں یورپی یونین نے اسرائیلی خلاف ورزیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے غزہ کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے منصوبے کو "ناقابل قبول" قرار دیا۔

انہوں نے اتوار کے روز ہسپانوی اخبار ’ایل پیس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’نفرت کے بیج نسلوں سے بوئے جا رہے ہیں اور یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ اسرائیلیوں نے حماس کی مالی مدد کی اور فلسطینیوں کو تقسیم کرنے میں کردار ادا کیا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حماس ایک نظریہ ہےاور ایک نظریے کا مقابلہ دوسرے نظریےسے ہی کیا جا سکتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی موقف نے نوجوان ڈیموکریٹک ووٹروں میں امریکی صدر جو بائیڈن کی مقبولیت کو متاثر کیا۔

"ہم تباہی کے بیچ کھڑے ہیں"

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل تباہ حال اور محصور غزہ کی پٹی میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم ایک تباہی کے درمیان کھڑے ہیں۔ اقوام متحدہ کو انسانی امداد معطل کرنے پر مجبور کیا گیا ہے"۔

غزہ کے جنوب میں رفح سے (اے ایف پی)
غزہ کے جنوب میں رفح سے (اے ایف پی)

انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیل کا بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

بوریل نے کہا کہ غزہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے طاقت کا استعمال غیر متناسب تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ غزہ میں تقریباً دو تہائی عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

جب کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں تقریباً 30 ہزار فلسطینی مارے گئے جن میں زیادہ تر عام شہری، خواتین اور بچے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں