فلسطین اسرائیل تنازع

حماس اسرائیل جنگ بندی ، معاہدے میں کیا کیا شامل ہو سکتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے امکانی معاہدے کے بارے میں پر امیدی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ اب قریب ہی ہو سکتا ہے۔ تقریباً پانچ ماہ پر پھیلی اس جنگ میں اب تک روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والی جنگ کے دو برسوں کی ہلاکتوں کے مقابلے میں تین گنا فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔
یہ جنگ سات اکتوبر سے جاری ہے جب فلسطینی تحریک مزاحمت نے کئی دہائیوں پر پھیلے اسرائیلی قبضے کے خلاف ایک بڑے وار کی کوشش کی تھی۔ بلا شبہ یہ فلسطینی عربوں ہی نہیں عرب دنیا کی تاریخ کے ساتھ ساتھ خود اسرائیلی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ تھا جس نے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا۔

حماس کا یہ حملہ تو ایک دن کا تھا مگر اس کے بعد اسرائیل تقریباً پانچ ماہ سے حماس سے انتقام لینے کے لیے پوری فلسطینی آبادی کو انتقام کی زد میں رکھے ہوئے ہے اب تک اس دوران 30 ہزار فلسطینی قتل ہو چکے اور 23 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔

اس دوران کئی بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس بارے میں جنگ بندی کی قرار دادیں پیش کی جاچکی ہیں مگر امریکہ نے انہیں ہر بار ویٹو کیا اور حماس کے مکمل خاتمے سے پہلے جنگ بندی کو عین اسرائیلی موقف کے مطابق حماس کو فائدہ پہنچانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

امریکہ کے مطابق مکمل جنگ بندی کے بجائے جنگ میں عارضی وقفہ ہونا چاہیے ، تاہم ماہ نومبر کے بعد کم دسمبر سے اب تک جنگ جاری ہے۔ اس دوران امریکہ ، قطر اور مصر اسرائیل و حماس کے درمیان کئی ادوار ہو چکے ہیں تاکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو اور اس کے بدلے میں جنگ بندی اور انسانی بنیادوں پر امدادی کارروائی کو فعال بنایا جا سکے۔
اب تک ہونے والے ان تازہ مذاکراتی ادوار میں ابھی ملے جلے اشارے مل رہے ہیں۔ جمعہ کے روز اسرائیلی موساد کے سربراہ سمیت امریکہ، قطر اور مصر کے حکام نے باہم مذاکرات کیے ہیں۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ' اسرائیل اور ثالثوں کے درمیان افہام و تفہیم سامنے آئی ہے۔'

اب قطر میں مذاکرات کے دور کے لیے پیر کے روز اسرائیلی وفد پہنچ چکا ہے۔ تاہم ابھی اس بارے میں کسی فریق نے باضابطہ کچھ نہیں بتایا ہے۔ مذاکرات کے باوجود ابھی جنگ بندی کی شرائط میں اختلاف رائے باقی ہے۔

اسرائیل عارضی جنگ بندی کے لیے تیار ہے تاکہ یرغمالیوں کی اس دوران رہائی ہو سکے۔ اسرائیلی میڈیا نے سرکاری حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل چھ ہفتوں کے لیے جنگ میں وقفہ کرنے کو تیار ہے۔یہ وقفے پورے رمضان المبارک کے دوران بھی جاری رہے گا، بشرطیکہ یہ معاہدہ طے پا جائے۔

نیتن یاہو نے بھی واضح کیا ہے کہ حماس مکمل فتح تک غزہ میں جنگ ختم نہیں کی جا سکتی ہے۔ یاہو نے رفح پر جنگی یلغار کی کے لیے بھی تہیی ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب حماس کا موقف ہے کہ اس وقت تک کوئی معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا جب تک مکمل جنگ بندی نہیں کی جاتی اور اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا نہیں کیا جاتا

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں