اردن کے شاہی محل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ شاہ عبداللہ نے جنوبی غزہ کے شہر رفح کے لیے اسرائیلی فوجی آپریشن کے منصوبےکے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے فلسطینی شہریوں کا تحفظ و امداد ممکن بنانے کے لیے فوری جنگ بندی کی اپیل کا اعادہ کیا ہے۔
شاہ اردن نے اس سلسلے میں یہ بھی زور دیا ہے کہ' دہائیوں پرانے تنازعہ کے خاتمے کا واحد راستہ فلسطینیوں کے لیے مشرقی یروشلم سمیت 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیلی کے قبضے میں لی گئی سرزمین پر ایک فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔'
یاد رہے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسی ہفتے کے دوران کہا ہے کہ جنگی کابینہ رفح کے لیے فوجی منصوبے کی منظوری دے گی، رفح ان دنوں 14 لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینی شہریوں کو پناہ دیے ہوئے ہے۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اس حملے میں شہریوں کی بھاری جانی نقصان ہوگا، بین الاقوامی برادری بھی رفح پر اسرائیلی جنگی یلغار کے نتیجے میں بڑی انسانی تباہی کا خطرہ ظاہر کر رہی ہے۔
شاہ عبداللہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آبادکاروں کے حملوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ اس بارے میں کئی یورپی ریاستوں نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
انہوں نے اس بارے میں اظہار تشویش کیا ہے کہ آئندہ ماہ رمضان کے مسلمانوں کے مقدس مہینے کے دوران مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں کی تعداد کو محدود کر دے گا۔ دوسری جانب اردنی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کو غزہ تک امداد پہنچانے کے لیے اب تک کی سب سے بڑی فضائی کارروائی کا اہتمام کیا جہاں 23 لاکھ کی بے گھر فلسطینی بھوک کی تباہ کاری سے دوچار ہیں۔
واضح رہے شاہ اردن نے اسی ماہ غزہ کے لیے انسانی امداد کے ایک ہوائی جہاز سے گرانے کی کارروائی میں حصہ لیا تھا۔