کئی مہینوں تک اسرائیلی حراست میں سخت صدمے سے دوچار رہنےوالے متعدد فلسطینیوں کی رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں سے متعلق ادارے 'اونروا' کے سربراہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ سے جن فلسطینیوں کو گرفتار کیا تھا، وہ رہا ہو کر واپس آرہے ہیں۔ تاہم وہ مکمل صدمہ کی حالت میں ہیں۔ ان کی رہائی کے موقع پر بتایا گیا ہے کہ انہیں اس دوران اسرائیلی فوج نے سخت تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

'اونروا' کی رپورٹ کے مطابق 'اونروا' سربراہ فلپ لازارینی کا کہنا ہے کہ 'ان سب فلسطینیوں کو وسیع پیمانے پر تشدد کر کے ، دھمکیاں دے کر انہیں بے لباس کر کے بےتوقیر کیا گیا۔ انہیں نیند سے محروم رکھا گیا۔ حتیٰ کہ ان کو کتوں اور اسرائیلی فوجیوں کے ذریعے خوفزدہ کیا جاتا رہا۔ جس سے ان کی حالت انتہائی خراب ہوتی رہی۔

'اونروا' کی طرف سے یہ تبصرہ نیویارک ٹائمز میں چھپی ہوئی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان زیرحراست فلسطینیوں کو کرم شالوم راہداری کے راستے واپس بھیجا جائے گا۔

لازارینی نے کہا ہم نے ان میں سے بہت سارے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ واپس آرہے ہیں۔ کچھ دو ہفتوں کی حراست کے بعد اور کچھ دو ماہ کی حراست کے بعد۔ مگر ان میں سے اکثریت مکمل صدمے کی حالت میں ہے۔ جس سے وہ مسلسل گزرے ہیں۔

'اونروا' نے اسرائیلی قید میں رہنے والے ان فلسطینیوں کے بتائے ہوئے واقعات کی روشنی میں ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔ اس رپورٹ کو انسانی حقوق کی تنطیموں کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں