ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور ان کے وزیر دفاع بینی گینٹز کے درمیان تنازع امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے برطانوی دارالحکومت لندن تک پہنچ گیا ہے۔
امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے دورے کے بعد گینٹزنیتن یاہو کی پیشگی منظوری کے بغیر لندن میں برطانوی حکام سے ملاقات کریں گے۔
لندن ایمبیسی کو ہدایات
عبرانی چینل 12 نے انکشاف کیا کہ نیتن یاہو کے دفترنے برطانوی دارالحکومت لندن میں اسرائیلی سفارت خانے کو وزیردفاع بینی گینٹز کے دورے میں مدد نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
چینل کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو گینٹز کے امریکہ اور برطانیہ کے موجودہ غیر ملکی دورے پر ناراض ہیں۔
واشنگٹن میں اسرائیل کے سفیرمائیک ہرزوگ کی جانب سے دورے کے دوران گینٹزکی مدد نہ کرنے کا حکم دینے کے بعد ان سے لندن میں سفارت خانے کو ہدایت کی کہ وہ گینٹز کے دورے کے کسی بھی پہلو میں مدد نہ کرے اور نہ ہی ان کی سکیورٹی کےحوالے سے کوئی اقدام کیا جائے۔
"اس کی مدد مت کرو"
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کی ہدایات کی بنیاد پر برطانیہ میں اسرائیلی سفیر زپی ہوٹویلی نے سفارت خانے کے ملازمین کو حکم دیا کہ وہ گینٹز کے دورے کے لیے حفاظتی انتظامات کرنے میں شن بیٹ کی مدد نہ کریں۔
ان میں نقل و حمل اور رہائش جیسے لاجسٹک معاملات ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے گینٹزکی سرزنش کی جوایک اسرائیلی اہلکار کے مطابق امریکی حکام سے بات چیت کے لیے گذشتہ اتوار کو واشنگٹن پہنچے تھے۔
مبصرین کے مطابق یہ پوزیشن حماس کے ساتھ اس کی جنگ کے تقریباً پانچ ماہ بعد ملک کی قیادت کے اندر بڑھتے ہوئے دراڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔