اردن میں نمازیوں پر چاقو سے حملہ کرنے والے ملزم کا "مہدی منتظر" ہونے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کے دارالحکومت عمان کے شمال مشرق میں واقع زرقا گورنری کی ایک مسجد میں 4 نمازیوں کو چاقو مارنے والے شخص کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ مجرم نے ’مہدی موعود‘ ہونےکا دعویٰ کیا اورکہا کہ نمازیوں کو اس کی اطاعت کرنی چاہیے۔اطاعت نہ کرنے پر تو اس نے ان پر چاقو سے حملہ کر دیا تھا۔

"مہدی منتظر" ہونے کا دعویٰ

الرصیفہ ڈسٹرکٹ کورٹ کے پبلک پراسیکیوٹر نے جہاں یہ واقعہ پیش آیا تیس سالہ نوجوان کو 15 دن کے لیے معطل سزا کا حکم دیا۔ اس نے زرقا گورنری کی الصحابہ مسجد میں عشاء کی نماز کے دوران چاقو سے حملہ کرکے چار نمازیوں کو زخمی کردیا تھا۔ ملزم نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ "مہدی منتظر "ہے۔

پبلک پراسیکیوٹر نے حملہ آور پر تعزیرات کی دفعہ 334 کے مطابق ایذا رسانی کے جرم اور دو بار حملے کا الزام عاید کیا گیا۔

نشے کا عادی

باخبر ذرائع نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو تصدیق کی ہے کہ زرقہ گورنری میں نمازیوں کے خلاف حملہ آور کا مجرمانہ ریکارڈ تھا اور وہ منشیات کا استعمال کرتا تھا۔ اس کے ریکارڈ پر مختلف مجرمانہ واقعات پہلے سے موجود ہیں۔

شناختی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حملہ آور نے نمازیوں پر حملہ کیا۔ ان میں سے چار کو معمولی زخم آئے تاہم نمازیوں نے ملزم کو دبوچ کر قابو کرلیا جسے بعد میں پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں