اسرائیل کی فوجی امداد کے ساتھ فلسطینیوں کے لیے امریکی خوراک کی 'ائیر ڈراپنگ' بے معنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہر نے امریکہ کی طرف سے غزہ کے بے گھر ہو چکے 23 لاکھ فلسطینیوں کے لیے ہوائی جہاز سے گرائی جانے والی امداد کو بے بنیاد اور ہوائی نوعیت کی باتیں قرار دیا ہے۔ لبنانی نژاد کینڈین پروفیسر اور انسانی حقوق اور خوراک کے شعبے کے لیے اقوام متحدہ کے ماہر کے مطابق اس ہوائی نوعیت کی امداد کے اس وقت تک کوئی معنی نہیں ہیں جب تک اسرائیل کی غزہ جنگ کے لیے امریکہ کی فوجی امداد جاری ہے۔

واضح رہے اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیل کی بھر پور فوجی امداد کے لیے آ موجود ہونے والے امریکہ نے پانچ ماہ کی جنگ کے دوران اسرائیل کو 17.6 ارب ڈالر کی اضافی فوجی امداد دی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے آنے والی تین قرار دادوں کو ویٹو کر دیا ہے۔

مگر امریکہ نے رواں ماہ کے دوران ایک ہفتے میں دو بار غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کے لیے امداد ہوائی جہاز سے گرائی ہے۔ پہلی بار 38000 کھانے گرائے گئے جبکہ جمعہ کے روز دوسری بار 40000 افراد کی خوراک کے لیے کھانے گرائے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق غزہ میں 760000 بے گھر فلسطینی تو قحط کی زد میں ہیں۔ یہ اسی غزہ کی بات ہے جہاں کم سن اور شیر خوار بچوں کی ڈیڑھ درجن تعداد بھوک اور پیاس کے ہاتھوں ہلاک ہو چکی ہے۔ ان بھوک سے موت کے دھانے پر پہنچے فلسطینیوں کے لیے امریکی ہوائی جہاز سے امداد گرانے کے عمل کو اقوام متحدہ کے ماہر نے بے اصل اور ہوائی باتوں سے جوڑا ہے۔ میخائیل فاخری کے مطابق یہ غزہ کے قحط کی رفتار کو سست کرنے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

فاخری نے جنیوا میں رپورٹروں سے بات چیت کے دوران خبر دار کیا 'افراتفری بڑھے گی کیونکہ بھوک سے مرنے والے لوگ اس سپلائی کے لیے پر جوش ہیں۔ امید پیدا کر لیں گے مگر نتیجہ کچھ نہیں ہو گا۔' انہوں نے مزید کہا ' جہاں تک غزہ کے لیے امریکہ کی مجوزہ بندرگاہ کا تعلق ہے، کسی نے اس کے لیے نہیں پوچھا۔ فاخری نے بندرگاہ اور ہوائی ایئرڈراپنگ کے طریقوں کو آخری سطح کے حربے کا نام دیا۔'

انہوں نے کہا، 'وہ وقت جب ممالک ہوائی جہازوں اور سمندری بندر گاہ استعمال کرنے کی بات کر رہے ہیں، عام طور پر یہ ایسے حالات میں کیا جاتا ہے جب کوئی دشمن کے علاقے میں انسانی امداد پہنچانا چاہتے ہیں۔' جنیوا میں امریکی سفیر فوری طور پر اقوام متحدہ کے ماہر کے خیالات پر تبصرے کے لیے دستیاب نہ ہو سکے۔

اقوام متحدہ کے ماہر کے مطابق اسرائیل اور کے درمیان تعلق محض اتحادیوں جیسا نہیں بلکہ یہ تعلق ایک شادی جیسا ہے۔ یہ تقریباً سمجھ سے باہر والی چیز ہے۔ جہاں تک غزہ کے لیے امریکہ کی حالیہ امدادی باتوں کا تعلق ہے یہ انتخابی تناظر میں مقامی لوگوں کو سنانے کی ایک کوشش ہے۔ جبکہ انسانی حقوق اور انسانی بنیادوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ بے بنیاد اور بے معنی سی چیز ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جب غزہ میں اسرائیلی جنگ کے لیے امریکی فوجی امداد بھی جاری ہو ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں