یورپی ہسپتال غزہ کا واحد ہسپتال جس میں اب تک اسرائیلی داخل نہیں ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں مسلسل پانچ ماہ سے جنگ جاری ہے جس میں 31000 سے زیادہ فلسطینی ہوچکے ہیں۔ ایک فلسطینی شہری نے اپنے اہل خانہ کے لیے محفوظ جگہ کی تلاش میں غزہ کی پٹی کے اس واحد ہسپتال میں پناہ لی ہے جہاں اب تک اسرائیلی فوج داخل نہیں ہوئی ہے۔

پچاس سالہ پولیس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ وہ اپنے خاندان کو خان یونس شہر کے مشرق میں یورپی ہسپتال لے گیا۔ دسمبر کے اوائل میں وہ اسرائیلی فوجیوں کے داخل ہونے پر اباسان میں واقع اپنے گھر سے بھاگنے پر مجبور ہوا تھا۔

آج اس شخص اور اس کے بوڑھے والد سمیت 10 افراد پر مشتمل خاندان نے یورپی ہسپتال کی راہداریوں میں تقریبا 100 دن گزار لیے ہیں۔ فلسطینی پولیس اہلکار کو امید ہے کہ وہ اپنے خاندان کو منتقل ہونے کے لیے ایک نئی جگہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ یہ ہسپتال 2000 میں یورپی یونین کی مالی مدد سے تعمیر کیا گیا تھا۔ 65 ہزار مربع میٹر رقبہ پر مشتمل یورپی ہسپتال اب تک اسرائیلی فورسز کی دست برد سے محفوظ ہے تاہم فلسطینی پولیس اہلکار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ صورتحال بھی جلد بدل جائے گی۔

اس نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو خان یونس سے فون پر بھی بتایا کہ مجھے خدشہ ہے کہ وہ جلد ہی یہاں بھی پہنچ سکتے ہیں اور کسی بھی لمحے یورپی ہسپتال کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ اسرائیلیوں کے کسی بھی وقت پہنچنے کے بارے میں باتیں کی جارہی ہیں۔

اس علاقے کی وضاحت کرتے ہوئے فلسطینی شہری نے کہا کہ یہ ہسپتال چاروں سمتوں سے فوج کی آمد کے لیے آسان ہے اور اسے کنٹرول کرنا فوج کے لیے اس سے کہیں زیادہ آسان ہو گا جس کا اسے شفا یا ناصر ہسپتال میں سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتال کے قریب مشرق سے بے گھر ہونے والے بہت سے لوگ ہیں اور اس کے لیے اس مقام سے آگے بڑھنا مشکل نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کا یہ واحد ہسپتال ہے جس میں اسرائیل داخل نہیں ہوا تھا۔ اب ان کی آمد میں تاخیر نہیں ہو گی۔ یہاں ایسے لوگ ہیں جو پہلے ہی ہسپتال سے نکلنا شروع کر چکے ہیں۔ اب تک اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی کے تمام بڑے ہسپتالوں میں داخل ہو چکی ہیں۔ صہیونی فوجیں ان ہسپتالوں میں اپنے یرغمالی تلاش کررہی ہیں۔

جنگ شروع ہونے کے کچھ ہی دن بعد قدیم بیپٹسٹ ہسپتال پر بمباری کی گئی جس میں 500 افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ نومبر کے وسط میں اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال میں داخل ہوگئی تھی۔ حماس کے رہنماؤں یا اس کے آپریشن مراکز کی موجودگی کے حتمی ثبوت فراہم کیے بغیر ہفتوں تک وہاں رہی تھی۔ گزشتہ ماہ اسرائیلی فوج ناصر میڈیکل کمپلیکس میں داخل ہوئی تھی یہ جنوبی غزہ میں سب سے اہم ہسپتال ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں