فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں جنگ بندی کی ایک مضبوط تجویز پیش کی ہے: بلنکن

دیکھنا یہ ہے کہ حماس جنگ بندی کی نئی تجویز کو قبول کرتی ہےیا مسترد کردیتی ہے:امریکی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے اب ایک مضبوط تجویز ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا حماس اسے قبول کرے گی یا سابقہ تجاویز کی طرح اسے بھی مسترد کردےگی۔

بلنکن نے وضاحت کی کہ حماس کے پاس جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے، یرغمالیوں کو رہا کرنے اور مزید انسانی امداد پہنچانے کی میز پر ایک مضبوط تجویز ہے۔

بلنکن نے مزید کہا کہ غزہ کے لیے امداد کی خاطر ایک سمندری راہداری کے قیام میں وقت لگے گا۔ یہ امداد کی ترسیل کے لیے زمینی راستوں کا متبادل نہیں۔ غزہ میں امداد کی لوٹ مار کرنے والے بھی موجود ہیں۔

بلنکن نے بتایا کہ جب سمندری راہداری قائم ہو جائے گی تو غزہ میں روزانہ 20 لاکھ کھانےکے پیکٹ پہنچائے جا سکیں گے۔

بلنکن نے رفح اور کاریم شالوم کراسنگ کے ذریعے امدادی سامان کی آمد کی توقع ظاہر کی اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ تک امداد پہنچانے کے لیے ممکنہ حد تک دیگر راہ داریوں کو کھولے۔

درایں اثناء اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کے جنوبی علاقے رفح میں ایک امدادی گودام پر فضائی حملے میں حماس کے ایک رکن "محمد ابو حسنہ" کو ہلاک کر دیا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ "حسنہ" حماس کے عسکری ونگ کے جنگی معاونت کے شعبے میں شامل تھا اور حماس کے مختلف یونٹوں کے درمیان سرگرمیوں کو مربوط کرنے کے ساتھ ساتھ حماس کے فیلڈ کارکنوں سے بات چیت اور ان کی رہ نمائی بھی کرتا تھا۔

بدھ کے روز حماس کی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر کو جنگ کے آغاز سے اب تک 73,024 افراد کے زخمی ہونے کے علاوہ غزہ کی پٹی میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 31,272 ہو گئی ہے۔ ان میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے منگل کو کہا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن رفح میں ایسے کسی بھی اسرائیلی فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے جس سے شہریوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہوں۔

سلیوان نے کہا کہ بائیڈن کا خیال ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کا راستہ "رفح پر حملہ کرنے میں مضمر نہیں ہے جہاں ڈیڑھ ملین افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں