ایرانی بحری جہاز یورپ کے راستے حزب اللہ کو ہتھیار پہنچاتے ہیں: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ کا خطہ 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایک بدترین سکیورٹی بحران کا سامنا کر رہا ہے باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران حزب اللہ کو ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے یورپی بندرگاہوں کا استعمال کر رہا ہے۔

ذرائع نے کہا کہا کہ حزب اللہ کو ایرانی بحری جہازوں پر میزائل اور بم ملے جو بیلجیم، اسپین اور اٹلی کی بندرگاہوں سے منتقل کیے گئے تھے۔

برطانوی اخبار ’ٹیلی گراف‘ نے ایک ذریعےکے حوالے سے بتایا کہ جب اسرائیلی فضائیہ نے عراق کے راستے شمالی شام میں زمینی راستے سے آنے والی کھیپوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تو ایران نے سمندر کے ذریعے ہتھیاروں کی ترسیل کا رخ کیا۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہتھیاروں اور دیگر سامان کو شام کی بندرگاہ لطاکیہ پر بھیج دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد بحری جہاز واپس اینٹورپ، والنسیا اور ریویننا کی بندرگاہوں کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔

ترسیل کا ذریعہ کیوں چھپایا جاتا ہے؟

اس تناظر میں ایک سینیر اسرائیلی انٹیلی جنس ذریعہ نے کہا کہ "یورپ کو استعمال کرنے سے ترسیل کی نوعیت اور ذریعہ کو چھپانے میں مدد ملتی ہے، اور کاغذات اور کنٹینرز کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یورپ میں بڑی بندرگاہیں ہیں۔ اس لیے ایران انہیں استعمال کرتا ہے، کیونکہ ان بڑی بندرگاہوں میں ہیرا پھیری کی کارروائیاں کرنا بہت آسان ہے جہاں چیزوں کو تیزی سے منتقل کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک چھوٹی بندرگاہ میں جہاں جانچ پڑتال زیادہ ہوتی ہے وہاں سامان کی منتقلی مشکل ہوتی ہے"۔

لطاکیہ کی بندرگارہ سے دور کا منظر
لطاکیہ کی بندرگارہ سے دور کا منظر

ذریعے نے بتایا کہ ہمارے اور ایرانیوں کے درمیان بلی اور چوہے کی طرح کا کھیل ہے۔ وہ اسمگلنگ کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم اسے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کم از کم تین سال سے ایسا ہی ہے"۔

اپنی طرف سے اسرائیل میں مقیم ایک انٹیلی جنس تجزیہ کار رونن سولومن نے تصدیق کی کہ ایران براہ راست شام کو ہتھیار بھیج رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی بندرگاہوں کے استعمال کا مقصد ان براہ راست ترسیل سے "توجہ ہٹانا" ہے۔

ان کا خیال ہے ایران نے حال ہی میں شام اور لبنان میں ہوائی اور زمینی انفراسٹرکچر پر اسرائیلی حملوں میں اضافے کے بعد سمندری راستے سے اپنی ترسیل کو تیز کر دیا ہے۔

ایرانی راہداری

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "زمین، فضائی اور سمندری راستے سے شام اور لبنان تک ایرانی راہداری مسلسل کام کر رہی ہے"۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ یہ ہتھیار لبنان میں حماس تک بھی پہنچتے ہیں۔ بعض راستے جن میں مصر اور لیبیا شامل ہیں غزہ میں ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

حزب اللہ کے ارکان
حزب اللہ کے ارکان

انہوں نے کہا کہ "یہ بات کافی عرصے سے معلوم ہے کہ لیبیا مصر میں رفح کے راستے حماس کو ہتھیار پہنچانے کا ایک راستہ ہے۔ر یہی حال حالیہ کھیپوں کا ہو سکتا ہے، کیونکہ مصری معائنہ اتنا جامع نہیں جتنا کہ وہ اسرائیل کی سرحدوں پر ہوتا ہے"۔

ایران کی قدس فورس یونٹ 190 کے ساتھ مل کر ہتھیاروں کی منتقلی کا انتظام حزب اللہ کے یونٹ 4400 کے ذریعے کیا جاتا ہے جو ہتھیاروں کی ترسیل کا ذمہ دار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں