فلسطین اسرائیل تنازع

فوج میں بھرتی کے استثناء کے خلاف اسرائیلی جنگی کابینہ کے رکن کی استعفیٰ دینے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی جنگی کابینہ کے ایک رکن بینی گینٹز نے اتوار کے روز دھمکی دی ہے کہ اگر الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو فوج میں لازمی خدمات انجام دینے سے استثناء دے دیا گیا تو وہ احتجاجاً جنگی کابینہ سے مستعفی ہوجائیں گے۔

دھمکی دینے والے وزیر نے نیتن یاہو حکومت کو انتباہ کرتے ہوئے کہا 'قوم اس فیصلے کو قبول نہیں کرے گی۔ اس لیے پارلیمان کو جنگ سے استثناء کا قانون منظور کرنے کے لیے ووٹ نہیں دینا چاہیے۔ اگر پارلیمان نے ایسے قانون کی منظوری دی تو وہ اور ان کے بہت سارے ساتھی اس ہنگامی حکومت سے الگ ہوجائیں گے۔'

بینی گینٹز سابق اسرائیلی آرمی چیف ہیں اور اس وقت نیتن یاہو سے زیادہ مقبول لیڈر کے طور پر اسرائیل میں موجود ہیں۔ بینی گینٹز کی نیتن یاہو کے ساتھ پچھلے کئی ہفتوں سے اختلافات میں شدت آچکی ہے اور ان کا امریکہ دورہ بھی نیتن یاہو کے ساتھ اختلافات میں شدت کا باعث بنا ہے۔ تاہم واضح رہے کہ 7 اکتوبر کے بعد سے وہ ابھی تک جنگی کابینہ کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

بینی گینٹز نے کہا ہے ایک ایسے وقت میں اس قانون کو لانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ قانون ہمیں تقسیم کرے گا جبکہ ہمیں متحد ہو کر اپنے دشمن کے خلاف لڑنا ہے۔ یہ حکومت کی واضح اخلاقی ناکامی بھی ہوگا۔

خیال رہے جنگی کابینہ کے رکن اور اپوزیشن رہنما بینی گینٹز نیتن یاہو حکومت کے خاتمے کے لیے اکیلے اس پوزیشن میں نہیں ہیں لیکن وزیر دفاع یواو گیلنٹ بھی اس نئی قانون سازی کے خلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ حتیٰ کہ نیتن یاہو کے دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ پارٹی میں اختلاف کا اشارہ دیا ہے۔

آرتھوڈوکس یہودیوں کو فوج میں لازمی خدمات سے استثناء کے لیے تیار کیے گئے اس مسودہ قانون کو ابھی تک عوام کے سامنے نہیں لایا گیا ہے۔ تاہم اس کے کچھ حصے عوام کے سامنے آچکے ہیں۔ جس کے بعد سیاسی و کابینہ کی سطح پر مخالفت بھی دیکھنے میں ارہی ہے۔

وزیر دفاع یواو گیلنٹ جو امریکی دورے پر جانے والے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس بل کو منگل کے روز کابینہ کے سامنے لایا جا رہا ہے۔ تاہم وہ اس کی حمایت نہیں کریں گے۔ کابینہ سے بل کی منظوری کے بعد اس طرح کے بل کو پارلیمان میں منظوری کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ جہاں ہفتوں یا مہینوں کے دوران منظوری یا عدم منظوری کا امکان ہوتا ہے۔

نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کے ترجمان نے اس بل اور کابینہ میں پائے جانے والے اختلاف پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ واضح رہے آرتھوڈوکس یہودیوں کو فوج میں لازمی خدمات انجام دینے کے استثنا کے ایشو پر کٹر یہودیوں اور لبرل یہودیوں میں دیرینہ اختلاف رائے چلا آرہا ہے۔ لبرل یہودی اس استثناء کے خلاف ہیں۔

کٹر یہودیوں کی سیاسی جماعتیں ملک میں 13 فیصد ووٹ کی حمایت رکھتی ہیں اور مخلوط حکومت میں نیتن یاہو کے ساتھ ہیں۔ حکومتی اتحادی ہونے کی بنیاد پر ان کا نیتن یاہو سے مطالبہ ہے کہ انہیں مذہبی علوم میں دسترس حاصل کرنے دی جائے نہ کہ ہمیں جنگوں میں لڑنے کے لیے تیار کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں