مصر کے سابق مفتی ڈاکٹرعلی جمعہ ایک مصری سیٹلائٹ چینل پراپنے متنازع فتووں کی وجہ سے کافی شہرت حاصل کررہے ہیں۔
اپنے تازہ ترین فتویٰ میں مفتی علی جمعہ نے کہا کہ حضرت حوا کے ہاتھوں آدم کا جنت سے نکالا جانا درست نہیں ہے، بلکہ ایک جاہلانہ عوامی روایت ہے جو مستند نہیں۔ قرآن میں اس کہانی کے حوالے سے جو کچھ موجود ہے وہ یہ ہے کہ جنت سے نکلنے کے ذمہ داری آدم اور حوا دونوں پر عاید ہوتی ہے۔ اس میں اکیلی اما حوا ذمہ دار نہیں۔
متنازعہ فتوے
دوسرے پچھلے فتووں میں مفتی جمعہ نے کئی ایسے متنازعے بیانات دیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بہت سے لوگ عذاب قبر، گنجے سانپ اور قیامت کی ہولناکیوں کے بارے میں بات کرتے ہیں، لیکن وہ شفاعت کے وجود کے بارے میں بات نہیں کرتے۔ ایک روایت میں ہے کہ امت کے 70,000 لوگ دوسروں کی شفاعت کریں گے۔ ان میں سے ہر ایک 70,000 چار ارب لوگوں کی شفاعت کرےگا۔ اس وقت مسلمانوں کی تعداد دو ارب سے زیادہ نہیں ہے اور یہ بھی کہ ممکن ہے کہ خدا آخرت میں جہنم کو ختم کردے اور تمام لوگ جنت میں داخل ہوجائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آگ لوگوں کو خدا کے عذاب سے ڈرانے کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے تاکہ وہ کسی کو نقصان نہ پہنچائے۔ فرد اور اس کے رب کے درمیان تعلق محبت اور رحم پر مبنی ہے۔ لوگوں کو دعوت دینے کا فلسفہ اللہ کی رحمت اور محبت پر ہونا چاہیے۔
اسی پروگرام میں جمعہ نے فتویٰ جاری کیا جس نے ہنگامہ برپا کر دیا۔ جنت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے۔ یہ کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی جنت میں داخل ہوں گے قرآن پاک کی ایک آیت کے ذریعے اس کی وضاحت کی گئی ہے۔
-
مصری حافظ قرآن نوجوان کی خودکشی کا معمہ
مصر میں کل اتوار کو ایک المناک واقعہ پیش آیا جب تیس سال کے ایک حافظ قرآن نوجوان نے ...
بين الاقوامى -
روزہ توڑنے والے سے اس کا سبب نہیں پوچھا جانا چاہیے: مفتی اعظم مصر
مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی علام نے کھلے عام روزہ توڑنے پر تنقید کی لیکن انہوں نے ...
بين الاقوامى -
مصری خاتون رکن پارلیمنٹ کا سابق پولیس افسر پر زیادتی اور بلیک میلنگ کا الزام
مصر میں سابق پولیس افسر کے ہاتھوں زبردستی زیادتی کا نشانہ بننے والی مصری پارلیمنٹ ...
بين الاقوامى