فلسطین اسرائیل تنازع

فلسطینی بچوں پرجنگ کی تباہ کاریوں کےاثرات،غزہ کے ہسپتال کا دورہ کرنے والے ڈاکٹر حیران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

وسطی غزہ کے ایک ہسپتال کا دورہ کرنے والی ڈاکٹروں کی ایک بین الاقوامی ٹیم بدترین حالات کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار تھی۔ لیکن حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ کا جو بھیانک اثر فلسطینی بچوں پر ہو رہا ہے، اسے دیکھ کر وہ بدستور حیران و پریشان رہ گئی۔

ایک ننھا بچےکی اسرائیلی حملے میں کھوپڑی ٹوٹ گئی جس کی وجہ سے وہ دماغی چوٹ سے جاں بحق ہو گیا۔ اس کی کزن ایک شیر خوار بچی اب بھی اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے جس کے چہرے کا کچھ حصہ اسی حملے میں اڑ گیا تھا۔

ایک 10 سالہ لڑکا اپنے والدین کے لیے درد سے تڑپ رہا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے ساتھ اس کی بہن تھی لیکن وہ اسے نہیں پہچان سکا کیونکہ اس کا تقریباً پورا جسم جلے ہوئے زخموں سے ڈھک گیا تھا۔

دیر البلح قصبے کے الاقصیٰ شہداء ہسپتال میں رات کے 10 گھنٹے کی شفٹ کے بعد اردن سے تعلق رکھنے والی بچوں کی انتہائی نگہداشت کی ڈاکٹر تانیہ حاج حسن نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے ان دلدوز ہلاکتوں کی بابت بیان کیا۔

حاج حسن جو غزہ میں وسیع تجربہ رکھتی اور جنگ کے تباہ کن اثرات کے بارے میں باقاعدگی سے بات کرتی ہیں، اس ٹیم کا حصہ تھیں جس نے حال ہی میں وہاں دو ہفتے کا کام ختم کیا۔

تقریباً چھ ماہ کی جنگ کے بعد غزہ کا صحت کا شعبہ تباہ ہو چکا ہے۔ غزہ کے 36 ہسپتالوں میں سے تقریباً ایک درجن صرف جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ باقی کے پاس ایندھن اور ادویات ختم ہو گئیں، اسرائیلی فوجیوں نے گھیر لیا اور چھاپہ مارا یا لڑائی میں نقصان پہنچا جس کے بعد وہ یا تو بند ہو چکے ہیں یا بمشکل کام کر رہے ہیں۔

اس سے الاقصیٰ شہداء جیسے اسپتالوں کو محدود سامان اور عملے کے ساتھ مریضوں کی ایک بڑی تعداد کی نگہداشت کرنا پڑتی ہے۔ اس کے انتہائی نگہداشت یونٹ کے زیادہ تر بستروں پر بچوں کا قبضہ ہے جن میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو پٹیوں میں لپٹے اور آکسیجن ماسک پہنے ہوئے ہیں۔

حاج حسن نے حالیہ شفٹ کے بعد کہا، "میں اپنا زیادہ تر وقت یہاں بچوں کو ہوش میں لانے میں گذارتی ہوں۔ یہ آپ کو غزہ کی پٹی کے ہر دوسرے ہسپتال کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟"

جنوری میں الاقصیٰ شہداء میں کام کرنے والے بین الاقوامی ڈاکٹروں کی ایک مختلف ٹیم قریبی گیسٹ ہاؤس میں قیام پذیر تھی۔ لیکن قریبی مقام پر اسرائیل کے حملوں میں حالیہ اضافے کی وجہ سے حاج حسن اور ان کے ساتھی کارکنان ہسپتال میں ہی رہے۔

بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی کی غزہ میں ٹیم کے رہنما اروند داس نے کہا، اس سے انہوں نے ہسپتال میں آنے والے تناؤ کو دردناک طور پر واضح دیکھا کیونکہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کی تنظیم اور طبی امداد برائے فلسطینی نے حاج حسن اور دیگر کے اس دورے کا اہتمام کیا۔

اردن کے ایک نرس مصطفیٰ ابو قاسم جو دورہ کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے، نے کہا کہ وہ زیادہ ہجوم دیکھ کر حیران رہ گئے۔

انہوں نے کہا، "جب ہم مریضوں کو تلاش کرتے ہیں تو کمرے نہیں ہیں۔ وہ راہداریوں میں بستر پر، گدے پر یا فرش پر کمبل پر ہوتے ہیں۔"

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق جنگ سے پہلے ہسپتال میں 160 بستروں کی گنجائش تھی۔ اب وہاں تقریباً 800 مریض ہیں پھر بھی ہسپتال کے 120 عملے کے ارکان میں سے بہت سے اب کام پر آنے کے قابل نہیں ہیں۔

صحت کی نگہداشت کرنے والے کارکنان کو اپنے خاندانوں کے لیے کھانا تلاش کرنے اور ان کے لیے کچھ حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش میں غزہ میں دوسروں کی طرح روزانہ کی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ابو قاسم نے کہا کہ بہت سے لوگ بچوں کو قریب رکھنے کے لیے اپنے ساتھ ہسپتال لاتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "یہ صرف افسوسناک ہے۔"

جنگ کی وجہ سے اپنے گھروں سے بے گھر ہونے والے ہزاروں لوگ بھی ہسپتال کے احاطے میں اس امید پر رہ رہے ہیں کہ یہ محفوظ رہے گا۔ بین الاقوامی قانون کے تحت ہسپتالوں کو خصوصی تحفظات حاصل ہیں حالانکہ اگر مزاحمت کار انہیں فوجی مقاصد کے لیے استعمال کریں تو ان تحفظات کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیل نے الزام لگایا ہے کہ ہسپتال حماس کے لیے کمانڈ سینٹرز، ہتھیار ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور ٹھکانے کا کام دیتے ہیں لیکن اس نے بہت کم بصری ثبوت پیش کیے ہیں۔ حماس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ اسرائیل گذشتہ ایک ہفتے سے غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال شفاء میں بڑے پیمانے پر آپریشن کر رہا ہے۔

اسرائیلی فوجیوں نے الاقصیٰ شہداء پر چھاپہ مارا یا محاصرہ نہیں کیا ہے بلکہ ارد گرد کے علاقوں پر اور بعض اوقات ہسپتال کے قریب بھی حملہ کیا ہے۔ جنوری میں بہت سے ڈاکٹر، مریض اور بے گھر فلسطینی حملوں کے بعد ہسپتال سے فرار ہو گئے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی بمباری اور جارحیت کے نتیجے میں 2.3 ملین آبادی کے علاقے میں 32,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک اورتقریباً 75,000 زخمی ہوئے ہیں۔

اس شمار میں مزاحمت کاروں اور عام شہریوں میں فرق نہیں کیا گیا لیکن وزارت کہتی ہے کہ ہلاک شدگان میں سے تقریباً دو تہائی خواتین اور بچے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کے اندازے کے مطابق غزہ کے 2.3 ملین افراد میں سے تقریباً نصف 17 سال یا اس سے کم عمر کے ہیں۔

اسرائیل حماس کو غیر مزاحمت کاروں کی ہلاکتوں اور زخمیوں کا ذمہ دار قرار دیتا ہے کیونکہ غزہ میں مزاحمت کار شہری علاقوں کے اندر سے کام کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ ہلاک شدگان میں سے ایک تہائی سے زیادہ حماس کے مزاحمت کار ہیں حالانکہ اس نے اس دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔

جنگ کے ابتدائی مراحل میں اسرائیل نے غزہ میں خوراک، ایندھن اور طبی سامان کے داخلے کو سختی سے محدود کر دیا۔ جبکہ امداد کی روانی بڑھ گئی ہے — اور اسرائیل کہتا ہے کہ اب کوئی حد نہیں رہی — بین الاقوامی برادری نے اسرائیل سے مزید امداد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

امدادی گروپ کہتے ہیں کہ سرحد پر معائنہ کے پیچیدہ طریقۂ کار، مسلسل لڑائی، اور امنِ عامہ میں خرابی قافلوں میں بڑے پیمانے پر سست روی کا باعث بنی ہے۔ اسرائیل اقوامِ متحدہ پر بدنظمی کا الزام لگاتا ہے۔

ہسپتال کا عملہ طبی آلات کو برقرار رکھنے کی غرض سے پرزہ جات کی کمی سے نمٹنے کے لیے برسرِ پیکار ہے تو نتیجہ تباہ کن رہا ہے۔ الاقصیٰ شہداء میں بے ہوشی کی دوا بھی کم رہی ہے یعنی سرجری اور دیگر طریقہ کار اکثر درد کش ادویات کے بغیر کیے جاتے ہیں۔

حاج حسن کہتی ہیں کہ غزہ کے صحت کی نگہداشت کے بحران کو ختم کرنے کا راستہ صرف ایک ہے۔

انہوں نے کہا، "انہیں جنگ روکنے کی ضرورت ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں