امریکہ غزہ میں امن فوج کے قیام کے لیے پینٹاگون کی تجویز پر غور کر رہا ہے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

محکمہ دفاع اور بائیڈن انتظامیہ کے حکام کے مطابق امریکہ مبینہ طور پر پینٹاگون کی اس تجویز پر غور کر رہا ہے کہ موجودہ جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ میں ایک امن فوج تعینات کی جائے۔

پولیٹیکو میگزین نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ اگرچہ ان خیالات میں زمین پر امریکی فوجیوں کی تعیناتی شامل نہیں لیکن وہ پینٹاگون کو کثیر القومی فوج یا فلسطینی امن دستے کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔

مضمون میں پینٹاگون کے دو اہلکاروں اور دو الگ الگ امریکی اہلکاروں کا حوالہ دیا گیا جن کا نام نہیں بتایا گیا۔

حکام نے کہا کہ پینٹاگون کی فنڈنگ دیگر ممالک کی علیحدہ امداد کے ساتھ مل کر امن فوج کی ضروریات کو پورا کرے گی۔

واشنگٹن نے غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے لیے اتحادیوں اور شراکت داروں سے رجوع کیا ہے جبکہ اسرائیل تباہ شدہ انکلیو کی تعمیرِ نو کی ادائیگی کے لیے امیر خلیجی ممالک پر اعتماد کر رہا ہے۔ البتہ خلیجی ممالک نے کہا ہے کہ وہ آنکھیں بند کرکے مدد نہیں کریں گے اور دو ریاستی حل کے لیے ایک واضح اور ناقابلِ واپسی راستے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بدعنوان فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ نے رپورٹ پر تبصرہ کرنے کے لیے پینٹاگون سے رابطہ کیا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے پولیٹیکو میگزین کو بتایا کہ امریکہ جنگ کے بعد غزہ میں عبوری حکومت اور سکیورٹی کے ڈھانچے کے لیے مختلف منظرناموں پر غور کر رہا ہے۔ اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا، "ہم نے اسرائیلیوں اور اپنے شراکت داروں دونوں سے غزہ میں جنگ کے بعد کے کلیدی عناصر کے بارے میں بہت زیادہ بات چیت کی ہے جب اس کے لیے مناسب وقت ہو۔"

امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ ہفتوں میں اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب واشنگٹن نے اسرائیل سے شہریوں کی ہلاکتوں کے معاملے میں مزید احتیاط برتنے کا مطالبہ کیا۔

اس ہفتے اسرائیلی وزیرِ اعظم نے وہ دورہ منسوخ کر دیا جو ان کے اعلیٰ معاونین اور بائیڈن انتظامیہ کے اہلکاروں کے درمیان واشنگٹن میں طے شدہ تھا۔

توقع تھی کہ بات چیت میں رفح پر توجہ مرکوز کی جاتی لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ انہوں نے یہ دورہ اس وقت روک دیا جب امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو ویٹو نہیں کیا جس میں فوری جنگ بندی اور حماس کے زیرِ حراست تمام یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ لیکن وہ تیزی سے اپنے مؤقف سے پیچھے بھی ہٹ گئے اور ان کی ٹیم اگلے ہفتے کے اوائل تک دورے کو دوبارہ طے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں