سور کا گردہ انسان کو لگایا جا سکتا ہے: مفتی علی جمعہ نے پھر تنازعہ کھڑا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے سابق مفتی اعظم ڈاکٹر علی جمعہ اپنے جاری کردہ فتووں سے اکثر تنازعات کھڑے کرتے اور اپنی طرف توجہ مبذول کرواتے رہتے ہیں۔آج اتوار کو انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں ان سے کہا گیا کہ کچھ سرجن سور کے گردے کو انسانی جسم میں منتقل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ بہت سے علماء نے اسے ممنوع قرار دیا ہے۔ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ خصوصاً اگر کسی شخص کو اس کی ضرورت ہو کیا اسے سور کا گردہ لگایا جا سکتا ہے؟۔

مفتی علی جمعہ نے ایک سیٹلائٹ چینل پر نشر ہونے والے پروگرام "نورالدین" کے دوران کہا کہ "عوام کے نزدیک سور ایک ناپاک جانور ہے اور اس کا کھانا حرام ہے۔ امام مالک کا عقیدہ ہے کہ ہر جاندار چیز پاک ہے"۔

جانور کے عضو سے انسانی جان بچانا

مصر کے سابق مفتی اعظم نے مزید کہاکہ "جانور کے کسی عضوسے انسان کی جان بچانا، خواہ وہ سور ہی کیوں نہ ہو جائز ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس معاملے میں کسی پر کوئی عار نہیں ہے لیکن اس کے ضروری شرط ہے کہ اس کی جان خطرے میں ہو اور کوئی متبادل آپشن نہ ہو۔

انہوں نے قرآنی آیت کا حوالہ دیا "فمن اضطر غير باغ ولا عاد فلا إثم عليه" ۔ اگر کوئی مجبور ہو حد سے تجاوز کرے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے"۔

مفتی علی جمعہ اپنے سابقہ فتووں کی وجہ سے عوامی حلقوں میں اکثر تنازعات کھڑے کرتے رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے کہا تھا کہ شادی سے قبل مرد اور عورت کا تعلق جائز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکے اور لڑکی کا دوستی کرنا عفت کی حدود میں جائز ہے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مردو وزن کے اختلاط میں کوئی حرج نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں