حماس کا جنگ بندی مذاکرات میں اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی تحریک مزاحمت حماس نے کہا کہ قاہرہ میں مذاکرات کے اگلے سیشن میں اپنا نمائندہ وفد بھیجا جائے گا مگر جنگ بندی کے لیے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کا امکان نہیں ہے۔ قاہرہ میں قطر اور مصر کے ثالثوں کی موجودگی میں مذاکرات کا نیا دور اس ہفتے کے اختتام پر متوقع ہے۔

مذاکراتی عمل میں امریکی سی آئی اے چیف کے علاوہ اسرائیلی موساد کے سربراہ بھی شریک ہوں گے۔ حماس نے بھی مذکرات کا حصہ بننے کے اعلان کے باوجود اس موقف سے پسپا نہ ہونے کا اعلان کیا ہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کا جامع انخلاء کیا جائے، مکمل جنگ بندی کی جائے،غزہ سےبےگھر کر کے نقل مکانی پر مجبور کیے گئے لاکھوں فلسطئینیوں کو واپس ان کے گھروں اور علاقوں میں جانے کی اجازت دی جائے، غزہ میں بلا تعطل اور جنگ زدہ فلسطینیوں کی ضروریات کے مطابق امداد کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔ نیز اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی جائے۔

واضح رہے قاہرہ میں رمضان المبارک کے دوران جنگ بندی کی کوششوں کے ناکام رہنے کے بعد ایک بار پھر مذاکرات کی بیٹھک سجنے جا رہی ہے۔ اس کے لیے امریکی صدر جوبائیڈن نے مصر اور قطر کو خط لکھ کر کہا ہے کہ وہ حماس کے رہنماؤں پر دباؤ ڈالی اور جنگ بندی پر مجبور کریں۔ وہیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے کہا ہے کہ مذاکرات میں اپنے نمائندوں کو بااختیار بنا کر بھیجیں۔

چھ ماہ سے جاری اس جنگ کے دوران اب تک 33137 فلسطینی اسرائیلی بمباری کے نتیھجے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد 78750 ہوچکی ہے۔ غزہ میں پیر کے روز 'ورلڈ سینٹرل کچن' کی 7 رکنی ٹیم کے اسرائیلی ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاکت کے بعد کئی یورپی ملکوں نے بھی اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی حمایت شروع کر دی ہے۔ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے 6 ماہ مکمل ہونے پر اس ظاہر ہونے والی پیش رفت کے بعد بظاہر اسرائیل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں