جنگ بندی مذاکرات کے لیے قیدیوں کی رہائی ضروری ہے: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو

جنوبی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی کمی بظاہر ایک ’آرام اور اصلاح‘ ہے اور یہ ضروری نہیں کہ کسی نئی کارروائی کا اشارہ ہو: جان کربی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو نے اتوار کو کہا کہ اسرائیل غزہ میں حماس کے خلاف اس وقت تک فائر بندی پر راضی نہیں ہو گا جب تک قیدیوں کو رہا نہیں کر دیا جاتا۔

اتوار کو غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے چھ ماہ مکمل ہو گئے ہیں اور اسی روز اسرائیلی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے آغاز میں نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب مصر میں فائر بندی کے مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اسرائیل حماس کے ’انتہائی‘مطالبات کو تسلیم نہیں کرے گا۔

دوسری طرف امریکہ کے خیال میں جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوجوں کی کمی ایک مثبت اشارہ ہے۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے اتوار کو اے بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی کمی بظاہر ایک ’آرام اور اصلاح‘ ہے اور یہ ضروری نہیں کہ کسی نئی کارروائی کا اشارہ ہو۔

’جیسا کہ ہم اسے سمجھتے ہیں اور ان کے عوامی اعلانات کے ذریعے یہ واقعی ان فوجیوں کے لیے آرام اور بحالی کے بارے میں ہے ... اور ضروری نہیں کہ ہم ان فوجیوں کے لیے آنے والے کسی نئے آپریشن کا اشارہ دے سکیں۔‘

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا کہ جنوبی غزہ میں اس کی فوج کی کمی سے وہاں صرف ایک بریگیڈ رہ گئی ہے۔

غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے چھ ماہ بعد فائر بندی کے لیے مذاکرات کا نیا دور آج قاہرہ میں شروع ہو رہا ہے جبکہ برطانوی وزیراعطم رشی سونک نے تنازعے کے خاتمے پر زور دیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حماس نے بیان میں کہا کہ غزہ میں اس گروپ کے نائب سربراہ خلیل الحیہ کی سربراہی میں ایک وفد مصری ثالثوں کی دعوت پر غزہ فائر بندی کی غرض سے مذاکرات کے لیے سات اپریل کو قاہرہ جائے گا۔

قاہرہ ہوائی اڈے پر رائٹرز کے ذرائع کے مطابق امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنز مذاکرات میں شرکت کے لیے ہفتے کی شام قاہرہ پہنچے۔

مصر کی القاہرہ نیوز نے ہفتے کو بتایا کہ قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی اور ایک اسرائیلی وفد کی بھی مذاکرات میں شرکت متوقع ہے۔

حماس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 25 مارچ کو منظور ہونے والی غزہ پٹی میں فائر بندی کا مطالبہ کرنے والی قرارداد سے قبل 14 مارچ کو جاری کردہ اپنے مطالبات دہرائے ہیں۔

ان مطالبات میں مستقل فائر بندی، غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا، بے گھر افراد کی واپسی اور غزہ میں قید اسرائیلی قیدیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کے ’سنجیدہ‘ تبادلے کا معاہدہ شامل ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں