رمضان میں طلاق کے زیادہ ترکیسز کا سبب کھانے پینے کا اختلاف ہے: مفتی اردن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کے مفتی اعظم احمدالحسنات نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران طلاق کے رجسٹرڈ ہونےوالے کیسز میں زیادہ تر کا سبب زوجین کے درمیان کھانے پینے کا اختلاف ہے۔ یہ اختلاف گھریلو ناچاقی اور لڑائیوں کا باعث بن رہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے پاس طلاق کے آنے والے کیسزمیں کھانے کی کوالٹی، افطاری کی دعوتوں پر اختلافات اور کافی کا ایک کپ جیسی وجوہات سامنے آئیں۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اردن میں گذشتہ سال کے پہلے مہینوں کے مقابلے اس سال کے آغاز سے طلاق کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے المملکہ ٹی وی کو دیے گئے بیان میں کہا کہ شوہروں نے غزہ کے لوگوں، مردوں، عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کو قتل و غارت گری پر صبر کرتے ہوئے دیکھ کرصبرکرنا سیکھا۔

الحسنات نے مزید کہا کہ طلاق کی شرح میں کمی ان حالات کی وجہ سے ہے جن کی قوم مشاہدہ کر رہی ہے۔غزہ کے واقعات نے طلاق کی شرح پر مثبت اثر ڈالا۔

غصے کی حالت میں طلاق نہیں ہوتی

جہاں تک شدید غصے کی حالت میں طلاق کے واقع ہونے کا تعلق ہے تو انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا حوالہ دینے سے نہیں ہوتا: "تنہائی میں طلاق نہیں ہوتی" یعنی اگر ایک شخص ایسی حالت میں ہے جس میں وہ بند ہو جاتا ہے اور چیزوں میں فرق نہیں کرسکتا تو اس کی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں