مغربی کنارے کے دیہات پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں نے باشندوں پر کیا اثرات چھوڑے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے کی پہاڑیوں میں آگ کے گرد بیٹھے ابراهيم ابو عليا اور ان کے کچھ دوست گاؤں پر آباد کاروں کے حملے کے بعد ابراہیم کے ریوڑ کی نگرانی کر رہے تھے۔

ابو علیا نے اے ایف پی کو بتایا، "ہم یہاں اس لیے ہیں تاکہ ہم بھیڑ بکریوں کی حفاظت کریں اور اگر آباد کار آئیں تو لوگوں کو مطلع کر سکیں۔

12 اپریل کو 14 سالہ اسرائیلی چرواہا بنجمن اچیمیر کے لاپتہ ہونے کے بعد قریب موجود غیر قانونی یہودی بستی "ملاچی ہشالوم" سے درجنوں یہودی آباد کاروں نے رام اللہ کے شمال میں واقع ان کے گاؤں المغائر پر دھاوا بول دیا۔

اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور OCHA کے مطابق رائفلوں اور مولوٹوف کاک ٹیلز سے لیس ان آبادکاروں نے گھروں کو آگ لگائی، مویشیں کو مار ڈالا جبکہ ان حملوں میں23 افراد زخمی اور 86 بے گھر ہوئے۔

تشدد میں ایک فلسطینی ہلاک بھی ہوا۔

فلسطینی چرواہے ابو علیا کے گھر کو بھی نظر آتش کر دیا گیا جس کے نتیجے میں اس کی "20 سے 30 بھیڑیں" اور دودھ کی مصنوعات بیچ کر حاصل ہونے والی جمع پونجی خاک ہو گئی۔

المغائر کے میئر امین ابو علیا نے کہا کہ آباد کاروں نے گھر، ایک بلڈوزر اور گاڑیوں سمیت "جو کچھ سامنے نظر آیا" جلا دیا۔

انہوں نے کہا کہ کئی شہریوں نے حملوں سے اپنے دفاع کے لیے منظم ہونے کی کوشش کی لیکن انہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا۔

انہوں نے کہا، "ہمارے پاس اس وقت اسرائیلی جیلوں میں 70 سے زائد قیدی ایسے ہیں جن پر حفاظتی کمیٹیوں میں شمولیت یا ایک منظم ادارہ بنانے کی کوشش کا الزام ہے۔"

دوما پر دو بار حملہ

المغائر کے شمال میں پانچ کلومیٹر (تین میل) کے فاصلے پر قریبی گاؤں دوما میں پرانے خدشات اس وقت سچ ثابت ہوئے جب ہفتے کے روز سینکڑوں آباد کار آس پاس کے کھیتوں سے علاقے میں اتر آئے۔

اس دن اچیمیر کی لاش ملی تھی جس کے جسم پر چاقو سے حملے کے نشانات پائے گئے۔ گاؤں میں لوگ بے بسی سے آباد کاروں کو طیش کے عالم میں ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے دیکھتے رہے۔

دوما کی ویلج کونسل کے سربراہ سلیمان دوابشہ نے اے ایف پی کو بتایا، "سینکڑوں آباد کار گاؤں میں داخل ہوئے جس کے بعد 300 سے زائد اسرائیلی فوجیوں نے گاؤں پر یلغار کر دی اور اسے فوجی علاقہ قرار دے دیا۔"

اسرائیلی حملے میں اپنے گھر کو کھونے والے 30 سالہ لوہار محمود صلودہ نے اس وقت اپنے آپ کو کمزور محسوس کیا جب اسے احساس ہوا کہ فوجی حملہ نہیں روک رہے تھے۔

انہوں نے کہا، "ہم خود کو بے بس اور کمزور محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہم اپنی حفاظت کرنے سے قاصر ہیں اور آباد کاروں کی حفاظت فوج کرتی ہے۔"

دوما کے مضافات میں جن کھیتوں سے حملہ آور آئے تھے، اس کے قریب اپنے سوختہ گھر کی پہلی منزل پر کھڑے ہوئے انہوں نے مزید کہا، "میرا تمام پیسہ اور میرا مستقبل برباد ہو گیا۔"

ان کے قدموں میں فرش جلے ہوئے فرنیچر اور ٹوٹے ہوئے شیشے سے ڈھکا ہوا تھا جبکہ سیاہ دیواریں عمارت پر پھینکے گئے فائر بموں کا نشان تھیں۔

ملحقہ کمرے میں ان کی ورکشاپ کو آگ لگا دی گئی تھی، پرانے اوزاروں کی سوختہ باقیات چار سو بکھری پڑی تھیں جبکہ لکڑی کا ایک بڑا ڈبہ جہاں وہ 70 چوزوں کی پرورش کر رہے تھے، اب خالی پڑا تھا۔

اس واقعے نے دوما کے رہائشیوں کے پرانے زخم تازہ کر دیئے جنہیں وہ سانحہ اب بھی یاد ہے جس سے دوابشہ خاندان کو گذرنا پڑا تھا۔

2015 میں اس خاندان کے گھر کو ایک آباد کار انتہا پسند نے آگ لگا دی تھی جس سے میاں بیوی اور ان کا چھوٹا بچہ ہلاک ہو گئے تھے اور صرف ایک زندہ بچ جانے والا فرد چار سالہ احمد دوابشہ رہ گیا تھا۔

'ہم کبھی یہاں سے نہیں جائیں گے'

مغربی کنارے کے بہت سے دیہاتیوں کی طرح دوما کے رہائشی کہتے ہیں کہ انہیں نہ تو فلسطینی سکیورٹی کا تحفظ حاصل ہے جسے صرف 40 فیصد علاقے میں کام کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی اسرائیل کا جو باقی پر کنٹرول کرتا ہے۔

اوچا (او سی ایچ اے) نے کہا کہ اسرائیلی فوجی ہمیشہ آباد کاروں کو فلسطینیوں پر حملہ کرنے سے نہیں روکتے۔

اوچا نے کہا، جنوری میں "سات اکتوبر کے بعد ریکارڈ کیے گئے (آبادکاروں کے تشدد کے) تمام واقعات میں سے تقریباً نصف میں اسرائیلی افواج یا تو حملہ آوروں کے ساتھ تھیں یا یہ اطلاع ملی کہ وہ ان کی حمایت کر رہی تھیں۔"

اوچا نے سات اکتوبر کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کے 774 واقعات ریکارڈ کیے اور کہا کہ 9 سے 15 اپریل کے درمیان 37 کمیونٹیز تشدد سے متاثر ہوئی ہیں جو گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں "تین گنا" زیادہ ہے۔

اوچا نے کہا کہ اسی عرصے کے دوران مغربی کنارے میں پانچ اسرائیلی فوجیوں سمیت نو اسرائیلی مارے گئے۔

فلسطینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں یا آباد کاروں کے ہاتھوں کم از کم 462 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

1967 سے اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں گذشتہ سال کے اوائل سے تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے شدت اختیار کر گیا ہے۔

چرواہے ابو الیہ نے اے ایف پی کو بتایا، مشکلات کے باوجود "ہم کبھی یہاں سے نہیں جائیں گے۔"

لیکن 29 سالہ نوجوان کو پہلے ہی ستمبر میں المغائر کے دوسری جانب اپنی سابقہ چراگاہوں سے اس جگہ منتقل ہونا پڑا جو بستی کی چوکی کے قریب تر ہے۔

این جی اوز نے کہا کہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے حملوں سے تشدد میں اضافہ ہوا کیونکہ ان میں لوگوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا تھا لیکن یہ مغربی کنارے میں ایک وسیع رجحان کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

خیراتی ادارے ایکشن ایڈ نے ایک بیان میں کہا، "یہ واضح ہے کہ مغربی کنارے میں تشدد میں اضافہ غزہ کے بحران کے ساتھ ہی ہوا ہے۔"

بدھ کی شام آبادکار المغائر اور ملاچی ہشالوم کے درمیان سے گذرنے والی سڑک کے ساتھ اسرائیلی پرچم لگا رہے تھے۔ اس کا مطلب ہے اس جگہ پر ملکیت کا دعویٰ کرنا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں