ایران اور اسرائیل کے حملوں کے وقت وائٹ ہاؤس نے کیسے فالو اپ کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکہ کی قومی سلامتی کی ٹیم نے مشرق وسطیٰ میں ایک ہمہ گیر جنگ چھڑنے سے روکنے کے لیے کئی دنوں تک کوششیں کیں اور وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم ایک مشکل وقت سے گزرا۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی ٹیم نے خطے میں کشیدگی سے بچنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ وال سٹریٹ جنرل نے بتایا کہ بائیڈن کی ٹیم اس دوران مشکل حالات سے گزری۔ ٹیم کو بعض اوقات یقین نہیں تھا کہ اسرائیل یا ایران کیا منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے جیسے ہی ایرانی میزائل اسرائیلی سرزمین پر داغے گئے۔ بائیڈن اور ان کی قومی سلامتی کی ٹیم نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم سے بڑھتی ہوئی تشویش کے ساتھ حالات کا مشاہدہ کیا۔

کوئی ضمانت نہیں تھی

اس وقت اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں تھی کہ اسرائیل کا اینٹی میزائل سسٹم 99 فیصد ایرانی میزائلوں کو مار گرانے کے لیے کافی ہے یا نہیں۔ بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے اس دن آپریشن روم میں کہا کہ فضائی دفاع کے نتائج اس وقت تک واضح نہیں ہوں گے جب تک اس دعویٰ کی حقیقت کی تصدیق نہیں ہوجاتی۔

وال سٹریٹ جرنل نے بتایا کہ حملے کی سطح کے متعلق ایرانی حملے کا منصوبہ فوری طور پر امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے واضح نہیں تھا۔ کچھ انٹیلی جنس رپورٹس سے توقع تھی کہ ایران صرف اسرائیل کی سفارتی تنصیبات یا اسرائیل سے باہر دیگر مقامات کو نشانہ بنائے گا۔ جیسے جیسے ایرانی ردعمل کے بغیر دن گزرتے گئے۔ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس حکام پر یہ واضح ہوتا گیا کہ ایران اسرائیلی سرزمین پر براہ راست حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور یہ حملہ بہت بڑا ہو گا۔ اس وقت پھر یہ سوال سامنے تھا کہ اس حملے کا وقت کیا ہوگا اور اس کے مقاصد کیا ہوں گے؟

حملے سے پہلےکیا ہوا؟

13 اپریل کو ایران نے یکم اپریل کو دمشق میں اپنے قونصل خانے کے ہیڈ کوارٹرز کو تباہ کرنے کے جواب میں میزائلوں اور ڈرونز سے اسرائیل پر غیر معمولی حملہ کیا۔ بدلے میں اسرائیلی فوج نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اپنے اتحادیوں کی مدد سے تقریباً تمام پروجیکٹائلز کو روکنے میں کامیاب رہی اور ان سے صرف محدود نقصان ہوا ہے۔

ایرانی حملے سے دو روز قبل مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل ایرک کوریلا 11 اپریل کو اسرائیل پہنچے تھے۔ وہ ایرانی حملے کے دوران تل ابیب میں قیام کرنا چاہتے تھے لیکن آسٹن نے اس خوف سے انہیں وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا تھا کہ ان کے قیام سے امریکہ اسرائیل کے کسی بھی ردعمل میں شرکت کرتا دکھائی دے گا۔ جس وقت بائیڈن 12 اپریل جمعہ کی شام کو ڈیلاویئر کے ریہوبوتھ بیچ پہنچے تو ایرانی حملے کا منصوبہ واضح ہو چکا تھا۔ وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل میں سٹریٹجک کمیونیکیشن کے کوآرڈینیٹر جان کربی نے بتایا کہ ہمارے پاس اگلے ایرانی حملے کے صحیح وقت کے بارے میں بہتر اور زیادہ درست انٹیلی جنس ہے۔

بائیڈن کی نیتن یاہو کو کال

ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب جس وقت حملہ شروع ہوا تو سیچویشن روم اور پینٹاگون میں موجود امریکی حکام نے میزائلوں کی تین لہروں کا سراغ لگایا جو ایرانی فضائی حدود سے نکل کر عراق اور اردن کو عبور کر کے اسرائیل کی طرف بڑھی تھیں۔ انتظامیہ کے اہلکاروں کے مطابق موصول ہونے والی پیشگی وارننگ کے باوجود انہیں ایرانی بمباری کے اس قدر بڑے پیمانے کی توقع نہیں تھی۔ ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ میرے خیال میں یہ ہماری توقع سے زیادہ بلند سطح پر حملہ تھا۔

اپریل کو واشنگٹن کے وقت کے مطابق رات تقریباً 9 بجے بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک فون کال پر گفتگو کی۔ امریکی حکام نے کہا کہ بائیڈن نے نیتن یاہو کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اگلے اقدام کے بارے میں احتیاط سے سوچیں۔ نیتن یاہو نے کال میں امریکی صدر کو بتایا کہ ایران کے خلاف اسرائیل کا ردعمل غیر ذمہ دارانہ نہیں بلکہ معقول ہو گا۔

چھ روز بعد اسرائیل کا جواب

19 اپریل کو اسرائیل نے ایرانی صوبے اصفہان میں ایک فوجی مقام کو نشانہ بنا کر محدود انداز میں جواب دے دیا۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ’اگر اسرائیل نے لاپرواہی سے جواب دیا ہوتا تو وہ ایک بار پھر وہ بین الاقوامی حمایت کھو دیتا جو اسے حال ہی میں دوبارہ حاصل ہوئی تھی۔ اگرچہ یہ حملہ محدود تھا تاہم اس سے یہ واضح ہو گیا کہ اسرائیل ایرانی فضائی دفاع پر قابو پانے اور ایرانی سرزمین پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یکم اپریل کو دمشق کے حملے کے برعکس 19 اپریل کو اسرائیل نے امریکہ کو اپنے محدود حملے کی چند منٹ قبل اطلاع دے دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں