اسرائیلی وارننگ اور اثاثوں کی بحالی کی امید۔۔ شامی حکومت غزہ جنگ سے دور کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے شامی رجیم اس جنگ سے دور رہنے اور کسی براہ راست محاذ آرائی سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، حالانکہ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسرائیلی حملے کے ذریعے دمشق میں ایرانی قونصل خانے کو نشانہ بنانے سے خطے میں تقریباً جنگ کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔

شام میں 13 سال کی خون ریز خانہ جنگی کے بعد صدر بشار الاسد اپنے دو اہم حامیوں روس اور ایران میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران اور اس کے وفادار گروپ حماس کی "سپورٹ" کرنے میں جلدی کر رہے تھے اور روس شام اور پورے خطے میں استحکام پر زور دے رہا ہے۔

غزہ جنگ سے شام کے دور رہنے کی متعدد وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہےکہ بشارالاسد اسرائیل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کے بدلے میں مغربی ملکوں میں منجمد اثاثوں کی بحالی کی امید ہے۔

"ہم تمہیں تباہ کر دیں گے"

اس تناظر میں ایک مغربی سفارتی ذریعے جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر ’اے ایف پی‘ کو وضاحت کی کہ "بشار الاسد کو اسرائیلیوں کی طرف سے واضح انتباہ موصول ہوا ہے کہ اگر شام کو ان کے خلاف استعمال کیا گیا تو وہ ان کی حکومت کو تباہ کر دیں گے"۔

جبکہ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے ایک تجزیہ کار اینڈریو ٹیبلر نےکہا کہ روس نےدمشق رجیم پر زور دیا کہ وہ اس تنازعے سے باہر رہیں جو حماس اور اسرائیل کے درمیان 7 اکتوبر سے جاری ہے۔

گولان میں تعینات اسرائیلی فوجی۔
گولان میں تعینات اسرائیلی فوجی۔

گولان میں سکون

لبنان عراق اور یمن میں ایران کے اتحادیوں نے حماس کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف محاذ کھولنے میں جلدی کی جب کہ اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں کا محاذ نسبتاً پرسکون رہا۔

ٹیبلر نے انکشاف کیا کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک گولان کی طرف شام کی سرزمین سے بیس سے تیس میزائل حملے فائر کیےگئے لیکن ان میں سے زیادہ ترسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

شام میں تباہی کے مناظر۔
شام میں تباہی کے مناظر۔

انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے۔ ان معمولی حملوں کو واشنگٹن اور دوسرے ممالک کی طرف سے ایک خفیہ پیغام قرار دیا گیا جس میں کہا گیا کہ اسد غزہ کی جنگ سے دور رہنا چاہتے ہیں"۔

دوسری جانب ایک اور پیش رفت میں ایران نے حال ہی میں جنوبی شام میں اپنی فوجی موجودگی کو کم کر دیا ہے۔ خاص طور پر گولان سے ملحقہ علاقوں میں ایرانی فوجیوں کو نکال لیا گیا ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس اور حزب اللہ کے قریبی ذرائع کے حوالےسے تصدیق کی ہے کہ ایران شام میں اپنی موجودگی کو بہ تدریج کم کررہا ہے۔ ایران کی طرف سےیہ اقدام اسرائیل کےشام پر بڑھتے حملوں کے تناظر میں کیا گیا۔

بشار الاسد جنگ سے دور کیوں

شامی صدر بشارالاسد اسرائیل کے خلاف براہ راست جنگ سے دور رہنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔ مغربی سفارت کار کا خیال تھا کہ "بشارا الاسد کو خاص طور پر مغربی ممالک میں ضبط کیے گئے اثاثوں کےملنے کی امید ہے جب کہ روس اسے جنگ سے دور رکھنے کی الگ سے کوشش کررہا ہے‘‘۔

انہوں نے اپنے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ "بشارا لاسد حماس سے نفرت کرتا ہے اور اخوان المسلمون کی حمایت کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتا۔ کیونکہ حماس اور اخوان نےشام میں بشارالاسد رجیم کے خلاف اپوزیشن تحریک کی حمایت کی تھی۔

شام میں ایرانی اہداف کے خلاف اسرائیلی حملوں کی رفتار 7 اکتوبر کے بعد کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

اپریل کےشروع میں دمشق میں ایرانی قونصل خانے کو نشانہ بنانا اور پاسداران انقلاب کے دو سینیر رہ نماؤں کا قتل تہران کے لیے ایک زبردست دھچکا تھا جس کے جواب میں ایران نے 13 اپریل کو اسرائیل کے خلاف ایک غیرمعمولی حملہ کیا۔ اس میں اس نے 350 ڈرونز ، بیلسٹک اور کروز میزائلوں کا استعمال کیا تاہم امریکہ اور دیگر اتحادیوں کی مدد سے اسرائیل نے ایرانی حملہ ناکام بنا دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں