غزہ مذاکرات کے لیے اسرائیلی وفد تاحال قاہرہ نہیں آیا: اسرائیلی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک اعلیٰ اسرائیلی اہلکار نے ہفتے کے روز کہا کہ اسرائیل غزہ جنگ بندی پر مذاکرات کے لیے وفد کو صرف اسی صورت میں قاہرہ بھیجے گا جب اسے یرغمالیوں کے معاہدے کے فریم ورک پر "مثبت پیش رفت" نظر آئے۔

اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، "ہمیں جس کی تلاش ہے، وہ یرغمالیوں کی ممکنہ ڈیل کے فریم ورک پر ایک معاہدہ ہے۔"

نیز انہوں نے کہا، "حقیقی معاہدے کے لیے سخت اور طویل مذاکرات کی توقع ہے۔"

انگریزی میں بات کرنے والے اہلکار نے کہا، "فریم ورک پر مثبت پیش رفت کا اشارہ اس صورت میں ہوگا جب ہم موساد کے سربراہ کی قیادت میں ایک وفد قاہرہ بھیجیں۔"

یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ گروپ کے مذاکرات کار غزہ کی پٹی میں تقریباً سات ماہ سے جاری جنگ میں مجوزہ تؤقف پر نئی بات چیت کے لیے ہفتے کے روز قاہرہ پہنچ گئے تھے۔

قطر، مصر اور امریکہ کے ثالثین حماس کی جانب سے اس تجویز کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں جس سے برطانیہ کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 40 دنوں کے لیے لڑائی رک جائے گی اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے عوض یرغمالیوں کا تبادلہ ہو گا۔

اگر وہ کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں تو نومبر میں ایک ہفتے کے تؤقف کے بعد یہ جنگ بندی کا پہلا موقع ہو گا جب حماس نے 105 یرغمالیوں کو رہا کیا تھا جن میں سے 80 اسرائیلیوں کو اسرائیل کے زیرِ حراست 240 فلسطینیوں کے بدلے میں رہا کیا گیا۔

کئی مہینوں سے جاری مذاکرات جزوی طور پر حماس کی طرف سے دیرپا جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء کے مطالبے کی بنا پر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی طرف سے غزہ کے جنوبی شہر رفح میں زمینی حملہ شروع کرنے کے بار بار وعدوں پر التواء کا شکار ہوئے۔

رفح جہاں تقریباً 1.2 ملین شہری پناہ گزین ہیں، پر بڑے پیمانے پر حملے کے امکانات شدت اختیار کرتے عالمی خطرے کی وجہ بنے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں