سعودی عرب نے محصور غزہ کی پٹی کی طرف جانے والے اردن کے انسانی امدادی قافلے پر اسرائیلی آباد کاروں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’بار بار حملے اسرائیلی فوج کی بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکامی کا نتیجہ ہے اور اسے ضروری انسانی امداد کو غزہ کی پٹی تک پہنچنے سے روکنے کےلیے منظم ملی بھگت سمجھا جاتا ہے‘۔
#بيان | تعرب وزارة الخارجية عن إدانة واستنكار المملكة العربية السعودية الشديدين لاعتداء مستوطنين إسرائيليين اليوم على قافلة مساعدات إنسانية تابعة للمملكة الأردنية الهاشمية كانت في طريقها لقطاع غزة المحاصر pic.twitter.com/rd0ZsIX5sl
— وزارة الخارجية 🇸🇦 (@KSAMOFA) May 7, 2024
سعودی عرب نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ ’وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون اور عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹہرانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے‘۔
بیان میں امدادی قافلوں کی گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرنے اور فلسطینی علاقے میں ان کی آمد کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا تاکہ وہاں انسانی بحران کے خاتمے میں مدد مل سکے۔
اردن نے بھی حملے کی مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نےامدادی قافلوں پر آباد کاروں کے حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا۔
اردن کی ہاشمی چیرٹی آرگنائزیشن کے تحت بھیجے گئے امدادی قافلے پر اسرائیلی آباد کاروں نے اس وقت حملہ کیا جب وہ شمالی غزہ میں بیت حنون کی کراسنگ کی طرف جا رہا تھا جسے ایریز کراسنگ بھی کہا جاتا ہے۔
تاہم حملے کے باوجود قافلہ اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا اور جنگ زدہ غزہ میں اپنی منزل پر پہنچ گیا۔