تل ابیب میں گلے ملنے والے نیتن یاھو اور بائیڈن کی 'محبت' میں دراڑ پڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حماس کے حملے کے چند روز بعد امریکی صدر جو بائیڈن تل ابیب کے ہوائی اڈے پراترے جہاں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقعے پر بائیڈن نے حماس کے حملے پر نیتن یاھو سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں گلے لگایا اور حماس کی بیخ کنی کے لیے ہرممکن تعاون اور مدد کا یقین دلایا۔

نیتن یاہو کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے بائیڈن نے اپنے طویل کیریئر کے دوران اسرائیل کے لیے اپنی حمایت کو کبھی نہیں چھپایا یہاں تک کہ انہوں نے ایک بار لکھا کہ "نیتن یاھو میں تم سے پیار کرتا ہوں"۔

محبت کا صفحہ پلٹ گیا

لیکن لگتا ہے محبت کا صفحہ سات ماہ کی جنگ کے بعد بند ہو گیا ہے۔

جوبائیڈن اور نیتن یاہو تل ابیب میں
جوبائیڈن اور نیتن یاہو تل ابیب میں

رفح پراسرائیلی حملے سے دونوں اتحادی ممالک کے رہ نماؤں کے درمیان گہری دراڑ پیدا ہو گئی۔

امریکی صدر نے اس ہفتے پہلی بار یہ اشارہ دیا کہ ان کا ملک اسرائیل کی کچھ فوجی امداد معطل کر دے گا جو کہ سالانہ تین بلین ڈالر بنتی ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ جنوبی غزہ کے شہر رفح پر حملے سےباز رہے۔

ایک شرمناک صورتحال

بائیڈن اسرائیل کی دفاعی امداد روک کر شرمناک صورت حال میں گھر چکے ہیں۔ کیونکہ غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کی لامحدود حمایت کے پس منظر کے خلاف انہیں اپنے ملک میں تنقید کا سامنا ہے۔ رواں سال ہونے والے انتخابات صدر بائیڈن کے لیے ایک نئی آزمائش ہیں کیونکہ اسرائیل کو ناراض کرکے انہوں نے یہودی ووٹروں کی مخالفت مول لی ہے اور انہیں اس کی قیمت انتخابات میں چکانی پڑ سکتی ہے۔

محبت کے رنگ دونوں طرف پھیکے پڑتے دیکھائی دیتے ہیں۔ رفح کے معاملے پر نیتن یاھو نے اپنے دیرینہ اتحادی امریکہ کی بات نہیں مانیں بلکہ ڈیڑھ ملین لوگوں پرمشتمل رفح پر فوج کشی شروع کردی ہے۔

امریکی حکومت کے عہدیدار کئی ہفتوں سے نیتن یاھو سے مطالبہ کرتے آئے تھے کہ وہ رفح پر حملے سے باز رہیں۔

لیکن اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ان کی حالیہ بات چیت میں بشمول سیکرٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن کا گذشتہ ہفتے تل ابیب کا دورہ واضح کرتا ہے کہ اسرائیل نےامریکی انتباہات کو سنجیدگی سے نہیں
لیا۔

مکمل تنازعہ

اس تناظر میں تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ دونوں رہ نمائوں کے درمیان ذاتی تعلقات کی تاریخ ضروری نہیں کہ ان کے سیاسی مفادات کی عکاسی کرے۔

سینٹر فار امریکن پروگریس میں قومی سلامتی اور بین الاقوامی پالیسی کے ڈائریکٹر ایلیسن میک مینس نے وضاحت کی کہ ان کے مفادات اس وقت "مکمل تنازعہ" میں ہیں۔

خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ"یہ ضروری نہیں کہ ذاتی دوستی ہو جو کسی نہ کسی طرح دونوں رہ نماؤں کے مضبوط سیاسی مفادات کو زیر کر لے"۔

لیکن ساتھ ہی انہوں نے نشاندہی کی کہ بائیڈن جنہوں نے رفح میں بڑے پیمانے پر اسرائیلی حملے کو اپنے ملک کے لیے ایک "سرخ لکیر" قراردیا اسے ابھی تک عبور نہیں کیا گیا۔ نتن یاہو کے لیے رفح حملے سے دستبردار ہونے کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے۔ وہ اختلاف رائے کا عادی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں