قحط کا خطرہ، ناروے کا فلسطین کے لیے امداد میں چار گنا اضافہ کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ناروے کی حکومت نے رواں سال فلسطینیوں کی امداد میں92.5 ملین ڈالر کا اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے جو کہ ناروے کی کرنسی میں ایک بلین کرونر کے برابر ہے۔ امداد میں اضافے کی تجویز کا اعلان انسانی ہمدردی کے اداروں کی طرف سے غزہ میں قحط کے خطرے کے اعلان کے بعد منگل کے روز کیا گیا ہے۔

منگل کے روز پیش کیے گئے ناروے کے بجٹ کے اعداد و شمار میں گزشتہ سال کے بجٹ کے مقابلے میں 258 ملین کرونر کا اضافہ کیا گیا ہے جو کہ سابقہ بجٹ سے چار گنا زیادہ ہے۔

ناروے کی بین الاقوامی ترقی کی وزیر اینی بیتھ ٹیونیریم کا کہنا تھا کہ 'غزہ میں سات ماہ سے جاری جنگ کی وجہ سے غزہ میں ہنگامی بنیادوں پر امداد کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔'

اینی بیتھ نے انسانوں کے پیدا کردہ بحران اور مغربی کنارے میں نازک صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ 'غزہ میں خوراک کی قلت اور فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث قحط کا خطرہ ہے۔ '

حالیہ بجٹ کے مسودے کے مطابق ناروے رواں سال اپنی مجموعی قومی آمدنی کا تقریبا 0.98 فیصد ترقیاتی امداد کے لیے وقف کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

تاہم امدادی فنڈ کے اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں اور ان میں تبدیلی کا امکان تاحال باقی ہے کہ ناورے کی مرکز میں بائیں بازو کی حکومت پارلیمنٹ میں اقلیت ہے اور اسے مسودے کی قرارداد منظور کرنےکے لیے ابھی دوسری جماعتوں کو قائل کرنا پڑے گا۔

وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے بھی ایک بار پھر اسرائیل کو رفح میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کے خلاف خبردار کیاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'اسرائیلی افواج کا یہ آپریشن آبادی کے لیے تباہ کن ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ امداد فراہم کرنا اور بھی بہت زیادہ مشکل اور خطرناک ہو جائے گا'

انہوں نے مزید کہا کہ 'رفح میں پناہ لینے والے 10 لاکھ سے زیادہ لوگ پہلے ہی کئی بار قحط، موت کی ہولناکی سے بھاگ چکے ہیں۔ اور اب ایک بار پھر انہیں دوبارہ نقل مکانی کے لیے کہا جا رہا ہے حالانکہ غزہ میں کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے'۔

7 اکتوبر کو اسرائیلی سرزمین پر حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ رفح میں آپریشن شروع کرنے کے لیے پرعزم ہیں، جسے وہ عسکریت پسند تنظیم کا آخری بڑا گڑھ تصور کرتے ہیں۔

رفح کے بہت سے لوگ اسرائیلی جنگ کی وجہ سے متعدد بار بے گھر اور نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اور اب اسرائیلی فورسز کے شہر کے مشرقی حسے کو خالی کرنے کے مطالبے پر ایک بار پھر واپس شمال کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔

رفح کے بہت سے لوگ جنگ کے دوران متعدد بار بے گھر ہو چکے ہیں، اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے شہر کے مشرقی ماضی کو خالی کرنے کے مطالبے کے بعد اب واپس شمال کی طرف جا رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج اور ٹینکوں نے سات مئی کو شہر کے مشرقی حصے میں داخل ہو کر فلسطینیوں کو شمال کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ادارے 'انروا' کے مطابق 6 مئی سے رفح سے بے گھر ہونے فلسطینیوں کی تعداد 450,000 تک پہنچ چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں