منی لانڈرنگ اور دہشتگردی بڑے خطرات، نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت ہے: سعودی عرب

انسداد بدعنوانی اداروں اور مالیاتی تحقیقاتی یونٹس کیلیے عرب فورم کے آغاز پر سعودی رہنما عبد العزیز الھویرینی کی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشتگردی بڑے خطرات ہیں۔ ان سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔

سعودی ریاستی سلامتی کے سربراہ عبدالعزیز الھویرینی نے بین الاقوامی استحکام اور مستحکم سلامتی اور اقتصادی حالات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی سرگرمیاں دنیا کو لاحق بڑے خطرات ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے موثر بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ قانون سازی اور ریگولیٹری پالیسیوں کے ساتھ ساتھ ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ معلومات اور تجربات کے تبادلے کے حوالے سے سعودی کوششیں قابل تعریف ہیں۔

انہوں نے یہ بیان ’’عرب فورم فار اینٹی کرپشن باڈیز اور فنانشل انویسٹی گیشن یونٹس‘‘ کے آغاز کے موقع پر دیا۔ اس عرب فورم کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں قائم کیا گیا ہے۔ فورم میں مقررین کی فہرست میں سے تقریباً 600 ماہرین اور 75 مقررین کی شرکت تھی۔ شرکاء میں مقامی اور بین الاقوامی ماہرین اور بین الاقوامی اور تعلیمی اداروں کے علاوہ مالیاتی تحقیقاتی یونٹس، بدعنوانی سے متعلق ادارے، سرکاری ایجنسیاں اور بین الاقوامی تنظیمیں بھی شامل تھیں۔

سعودی کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی "نزاہہ" کے چیئرمین مازن الکھموس نے مملکت کے ’’ویژن 2030‘‘ کو حاصل کرنے اور اسے بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے ایک کامیاب ماڈل میں تبدیل کرنے کے لیے سعودی عرب کے عزم کی توثیق کی۔ انہوں نے مقامی اداروں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ فورم اس سلسلے میں بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرنے، مقامی تعاون کو بڑھانے اور تجربات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

واضح رہے اس فورم کا مقصد مملکت میں حکومتی ایجنسیوں، ہم منصب تنظیموں اور علاقائی اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان تعاون کے لیے ایک واضح راستہ تیار کرنا ہے تاکہ مختلف اداروں کے درمیان مالی جرائم کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کوششوں کو یکجا کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں